بِٹ کوائن کا 80 ہزار ڈالر تک بریک آؤٹ شارٹ اسکوئیز کے بعد ETF اِن فلو کی ضرورت رکھتا ہے
بِٹ کوائن میں تقریباً 24% اضافہ ہوا، یہ $64,000 سے نیچے سے بڑھ کر قریباً $80,000 تک پہنچ گیا، اور تین ماہ کی بلند ترین سطح تقریباً $79,550 رہی۔ ابتدائی تیزی کی وجہ امریکی اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایفز کی انفلوز تھیں، جس کے ساتھ مجبورانہ شارٹ کورنگ بھی شامل تھی، اور ڈیریویٹیوز میں بڑی لیکویڈیشن کلسٹرز نے بھی کردار ادا کیا۔
ٹرڈرز کو اگلے مرحلے پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ نانسن کے مطابق سیلنگ پریشر کم ہو گیا ہے اور کچھ وہیلز منتخب انداز میں جمع کر رہی ہیں، لیکن امریکی کیش مارکیٹ کی تصدیع ابھی پوری طرح موجود نہیں: اسپاٹ ڈیمانڈ کے اشارے ہولڈرز کی کاسٹ بیسس کے مقابلے میں کمزور نظر آ رہے ہیں، اگرچہ ڈیریویٹیوز پوزیشننگ پہلے بہتر ہوئی تھی۔ اسی نظرئیے کے تحت یہ حرکت اب بھی بாட்டمنگ (bottoming) کے عمل کے آخری مراحل میں ہو سکتی ہے—مکمل طور پر کنفرمڈ سائیکل ٹرن نہیں۔
تازہ رپورٹنگ کے مطابق نئے ڈیٹیلز: ای ٹی ایفز نے 21 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران پانچ مسلسل سیشنز میں تقریباً $1.9B کی نیٹ انفلوز کھینچیں (جس میں 20 اگست کو تقریباً $606M بھی شامل ہے)۔ جیسے ہی مجبورانہ کورنگ کمزور پڑتی ہے، بِٹ کوائن کو سپلائی جذب کرنے کے لیے مسلسل ای ٹی ایف خریداری پر زیادہ انحصار کرنا پڑے گا۔
ڈیریویٹیوز کی ڈائنامکس اب بھی ایک بڑا رسک فیکٹر ہے۔ 19–20 اگست کے قریب جب قیمت تقریباً $65,000 سے بڑھ کر $75,000 سے اوپر گئی تو رپورٹ کے مطابق $3B سے زیادہ کے لیوریجڈ شارٹس بند کیے گئے؛ اس سے پہلے کل لیکویڈیشنز مجموعی طور پر $4B سے زیادہ تھیں۔ اگر بِٹ کوائن $80,000 کے قریب رِجیکشن سے ٹکراتا ہے جبکہ فنڈنگ اور اوپن اِنٹرسٹ بڑھتے رہتے ہیں تو رَالی زیادہ ممکن ہے کہ squeeze-led نظر آئے اور دوبارہ اصلاح (correction) کا سامنا ہو سکے۔
Bull راستہ: $80,000 سے اوپر صاف کلوز اور مستقل دفاع $85,000–$90,000 کھول سکتا ہے۔ Bear راستہ: اگر اسپاٹ ڈیمانڈ بہتری جاری نہ رکھ سکے تو ری سیٹ ممکن ہے۔ اپسائیڈ روٹیشن شروع میں وسیع آلٹ کوائن مضبوطی کی بجائے زیادہ تر ETH اور SOL کے حق میں جا سکتی ہے۔
Neutral
دونوں خلاصے اس بات پر متفق ہیں کہ بٹ کوائن کی $75,000 سے اوپر کی حرکت اور $80,000 کی جانب/آس پاس جانا ابتدا میں squeeze اور ETF-flo w کے ذریعے ہوا۔ تاہم بعد والی رپورٹ بتاتی ہے کہ اگرچہ ETF کی نیٹ آمد مضبوط ہے (21 اگست تک لگاتار پانچ سیشنز میں $1.9B)، پھر بھی Nansen اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی کیش مارکیٹ میں ابھی ہولڈرز کے cost bases کے مقابلے میں کافی کنفرمیشن نہیں ہے۔ یعنی بریک آؤٹ چل سکتا ہے، مگر یہ زیادہ نازک ہے: جب forced covering کمزور پڑے، تو قیمت کی پائیداری ongoing spot demand پر منحصر ہو جاتی ہے۔ ادھر liquidations کے بعد funding/open interest میں بہتری آنے سے یہ خطرہ بڑھتا ہے کہ اگر $80,000 پر کوئی rejection ہو تو ریلی واپس short-squeeze-driven، اور قابلِ فروخت momentum میں بدل سکتی ہے۔ اس لیے قریبی مدت کا ٹریڈنگ سیٹ اپ مشروط طور پر bullish ہے، مگر بٹ کوائن پر مجموعی اثر بہتر طور پر neutral ہی سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ ETF absorption کے تسلسل پر منحصر ہے اور اگر spot demand پیچھے رہ جائے تو correction کا خطرہ بلند ہے۔