Bitcoin اور Ethereum ETFs نے $2.6B حاصل کر لیے جب BTC $80K کے قریب پہنچ رہا ہے
بِٹ کوائن ای ٹی ایفز اور ایتھریم ای ٹی ایفز نے 2026 میں اپنی سب سے مضبوط ہفتہ وار کارکردگی ریکارڈ کی، خاص طور پر کرپٹو مارکیٹ کے تیز ری باؤنس کے بعد۔ 21 اگست تک مشترکہ اسپاٹ ای ٹی ایف اِن فلو تقریباً 2.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئے (تقریباً 10 ماہ میں بہترین ہفتہ وار نتیجہ): 1.918 ارب ڈالر بٹ کوائن ای ٹی ایفز کے لیے اور 697.2 ملین ڈالر ایتھریم اسپاٹ فنڈز کے لیے—SoSoValue کے مطابق۔
یہ اِن فلو تیزی سے ہونے والی قیمت کی واپسی کے ساتھ ساتھ بڑھا۔ بی ٹی سی تقریباً 62,300 ڈالر سے بڑھ کر مختصر طور پر قریب 80,000 ڈالر تک گیا، پھر واپس آ کر تقریباً 76,550 ڈالر ہو گیا۔ ایتھریم 2,500 ڈالر سے اوپر چھلانگ لگا گیا (تقریباً سات ماہ کی بلند ترین سطح) اور پھر تقریباً 2,400 ڈالر تک کم ہو گیا۔
مضمون میں بٹ کوائن ای ٹی ایفز کے اِن فلو میں اضافے کو دو میکرو/واشنگٹن محرکات سے جوڑا گیا ہے: امریکی ٹریژری نے کہا کہ وہ طویل مدت کے حکومتی قرض پر liquidity-support buybacks کو دوگنا کرے گا (کم ییلڈز کے ذریعے مالی حالات کو سہارا)، اور صدر ٹرمپ نے کرپٹو ایگزیکٹوز سے ملاقات کی اور ممکنہ بڑے پیمانے پر بٹ کوائن جمع کرنے (acquisition/accumulation) کا اشارہ دیا۔ ریگولیٹری پہلو سے، ایس ای سی نے اپنا پہلا tailored کرپٹو فند ریزنگ فریم ورک (“Regulation Crypto Assets”) تجویز کیا ہے، جبکہ سی ایف ٹی سی بھی کرپٹو ریگولیشن پر بحث کو آگے بڑھا رہا ہے۔
اہم توجہ دینے والی بات: کیا بٹ کوائن ای ٹی ایفز، جب کہ بی ٹی سی نے تقریباً 25% ہفتہ وار اضافہ کر لیا ہے، شارٹ کورنگ/لیکویڈیشن سے جڑی والیٹیلٹی کے باوجود مانگ برقرار رکھ پائیں گے۔
Bullish
بِٹ کوائن اور ایتھریم ETFs میں بڑے پیمانے پر، تقریباً 10 ماہ میں بہترین سطح کے قریب inflows دیکھے گئے—یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ میکرو لیکویڈیٹی کو US ٹریژری کی جانب سے yields کم ہونے اور رسک سینٹمنٹ بہتر ہونے کی وجہ سے سپورٹ مل رہی ہے۔ مزید یہ کہ واشنگٹن کی پالیسی سے متعلق ہیڈ لائنز (جس میں ٹرمپ کی کرپٹو میٹنگ بھی شامل ہے) نے بیانیے کی طاقت کو مزید مضبوط کیا۔ اس کا فوری اثر BTC/ETH کی قیمت میں تیز ری باؤنڈ کی صورت میں نکلا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت ETF کی ڈیمانڈ اوپر کی طرف لے جا رہی ہے، صرف ردِعمل نہیں۔
مختصر مدت میں بنیادی بُلش فیکٹر موومنٹم ہے: اگر اسپاٹ ETFs میں مسلسل inflows جاری رہیں تو BTC اور ETH پر خرید کا پریشر برقرار رہ سکتا ہے، چاہے ٹریڈرز لیکویڈیشنز کے بعد رسک کم کر رہے ہوں۔ درمیانی مدت میں، اگر امریکی ریگولیٹری سمت مزید واضح ہو جائے (SEC کا ٹیلرڈ فنڈ ریزنگ فریم ورک اور CFTC کا جاری کام)، تو یہ کرپٹو پروڈکٹس کی طرف وسیع سرمایہ کاری کو سپورٹ کر سکتا ہے۔
سب سے بڑا رسک پائیداری ہے: اگر BTC کی تقریباً 25% ہفتہ وار ریلی ٹھنڈی پڑ جائے اور ETF inflows کم ہو جائیں تو مارکیٹ میں وولاٹیلیٹی سے چلنے والا پل بیک آ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، موجودہ اسپاٹ ETF inflows کی شدت اور انہیں بہتر ہوتی میکرو کنڈیشنز سے جوڑ کر دیکھا جائے تو BTC اور ETH کے لیے متوقع قریبی مدت کا رجحان بُلش ہے۔