BitMEX آپریٹر کو 324.8 BTC کے معاملے پر برطانیہ میں مقدمے کا سامنا
برطانوی سافٹ ویئر انجینئر لیوس باربر نے BitMEX کی آپریٹر کمپنی HDR Global Trading کے خلاف لندن کی کمرشل کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے اور 324.8 BTC کا مطالبہ کیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 27.2 ملین ڈالر بتائی گئی ہے۔ یہ دعویٰ 2018 سے 2022 کے دوران BitMEX پر باربر کی جانب سے کی گئی 1,053 خسارے والی پرپیچوئل کنٹریکٹ ٹریڈز سے متعلق ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ آپریٹر کے پاس برطانیہ کے صارفین کو ڈیریویٹوز پیش کرنے کے لیے فنانشل کنڈکٹ اتھارٹی (FCA) کی اجازت نہیں تھی، اس لیے برطانوی قانون کے تحت یہ ٹریڈز قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ ایک سابقہ رپورٹ میں دعوے کی مالیت تقریباً 20 ملین پاؤنڈ بتائی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ باربر فنانشل سروسز اینڈ مارکیٹس ایکٹ 2000 کے تحت اپنے بٹ کوائن واپس یا اس کے مساوی معاوضہ چاہتے ہیں۔ الزامات کی عدالت میں ابھی جانچ نہیں ہوئی۔ BitMEX نے کہا کہ اس نے جواب جمع کرا دیا ہے، جبکہ سابقہ رپورٹنگ کے مطابق HDR Global Trading کو دعوے کی باضابطہ تعمیل ابھی نہیں کرائی گئی تھی۔ تازہ ترین رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایکسچینج ستمبر میں بند ہو گیا۔ برطانیہ کا یہ مقدمہ BitMEX کے امریکا میں منی لانڈرنگ کے خلاف کیس سے الگ ہے، جس کے نتیجے میں جنوری 2025 میں 100 ملین ڈالر کا جرمانہ ہوا تھا۔ اس مقدمے سے BitMEX کے لیے قانونی غیر یقینی بڑھ گئی ہے، تاہم کسی عدالتی فیصلے یا بٹ کوائن کی قیمت پر براہِ راست اثر کی اطلاع نہیں دی گئی۔
Neutral
یہ مقدمہ BitMEX کے آپریٹر کو نشانہ بناتا ہے اور ماضی میں ہونے والی ڈیریویٹوز کی تجارت سے متعلق ہے؛ دونوں خلاصوں میں نہ تو عدالت کے کسی فیصلے، نہ Bitcoin کے بنیادی عوامل میں کسی تبدیلی، اور نہ ہی مارکیٹ کے براہِ راست ردِعمل کی اطلاع دی گئی ہے۔ مختصر مدت میں یہ مقدمہ بعض ٹریڈرز کو BTC سے متعلق خبروں پر نظر رکھنے پر آمادہ کر سکتا ہے، لیکن Bitcoin کی قیمت پر اس کا اثر غالباً محدود ہوگا، جب تک کارروائی کے نتیجے میں وسیع تر اثرات سامنے نہ آئیں یا مارکیٹ کے رجحان میں تبدیلی نہ ہو۔ طویل مدت میں، برطانیہ میں کرپٹو ڈیریویٹوز تک رسائی کو متاثر کرنے والا کوئی فیصلہ ضابطہ جاتی توقعات اور تجارتی پلیٹ فارمز پر اثر انداز ہو سکتا ہے، لیکن نتیجہ اور اس کے وسیع تر اثرات تاحال غیر یقینی ہیں۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر، یہ خبر BTC کی سمت متعین کرنے والا کوئی واضح محرک پیش نہیں کرتی، اس لیے غیر جانب دارانہ جائزہ مناسب ہے۔