کرپٹو سے متعلق CFTC کے قواعد 2028 تک مؤخر ہو سکتے ہیں
TD Cowen کا اندازہ ہے کہ CFTC کے مجوزہ کرپٹو ٹریڈنگ قواعد شاید 2028 کے اوائل تک حتمی شکل اختیار نہ کریں۔ ادارہ 2027 کی پہلی سہ ماہی کے اواخر یا دوسری سہ ماہی کے آغاز میں باضابطہ مسودہ جاری کر سکتا ہے۔ اس طرح امریکی صدارتی انتخاب سے پہلے وقت محدود رہ جائے گا اور قواعد میں تاخیر، عدالت میں چیلنج یا نئی انتظامیہ کی جانب سے واپسی کا امکان بڑھ جائے گا۔
CFTC کے کرپٹو قواعد لیوریج اور مارجن پر مبنی ٹریڈنگ پر توجہ دیتے ہیں۔ ان کے تحت ریزروز کے ثبوت کے آڈٹ لازم ہو سکتے ہیں اور بعض ریاستی لائسنس یافتہ پلیٹ فارمز تک نگرانی بڑھائی جا سکتی ہے، لیکن یہ اسپاٹ کرپٹو ٹریڈنگ پر براہِ راست اختیار کا دعویٰ نہیں کرتے۔ ٹریڈرز اور پلیٹ فارمز کے لیے یہ تجویز مستقبل میں تعمیل کے ممکنہ اخراجات کی طرف اشارہ کرتی ہے، تاہم غیر یقینی ٹائم لائن اس کے فوری اثر کو محدود کرتی ہے۔ TD Cowen کا کہنا ہے کہ کانگریس سے منظور شدہ قانون سازی ضابطہ جاتی یقین دہانی کے لیے زیادہ پائیدار راستہ فراہم کرے گی۔
Neutral
یہ تجویز کرپٹو ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کی نگرانی اور ضابطوں کی پابندی سے متعلق ہے، نہ کہ کسی نامزد کرپٹو کرنسی کے بنیادی عوامل یا اس کی اسپاٹ مارکیٹ کے قواعد میں براہِ راست تبدیلی سے۔ قلیل مدت میں، دور اور غیر یقینی ٹائم لائن کے باعث اس کے قیمت پر واضح اثر انداز ہونے کا امکان کم ہے۔ تاجر ریگولیٹری خبروں پر نظر رکھ سکتے ہیں، لیکن کوئی بھی ردِعمل محدود یا عارضی ہو سکتا ہے۔ طویل مدت میں، ریزرو کے ثبوت سے متعلق تقاضے اور وسیع تر نگرانی متاثرہ پلیٹ فارمز کے اخراجات بڑھا سکتے ہیں اور مارکیٹ کے اعتماد پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم، عدالتوں میں چیلنج کیے جانے، مستقبل کی انتظامیہ کی جانب سے اسے واپس لیے جانے اور کانگریس میں قانون سازی کے امکان کے باعث اس کے حتمی اثرات غیر یقینی ہیں۔ چونکہ کسی مخصوص کرپٹو کرنسی کی نشاندہی نہیں کی گئی، اس لیے کسی خاص کوائن پر متوقع قیمت کا اثر غیر جانبدار ہے۔