کرپٹو کانفرنسیں ادارہ جاتی ترقی کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ اے آئی اور اسٹیبل کوائن کا کاروبار پسِ پردہ آگے بڑھ رہا ہے

کرپٹو کانفرنسز KBW Seoul اور TOKEN2049 Singapore نے سرگرمی کے خاتمے کے بجائے صنعت میں تبدیلی کا اشارہ دیا۔ شرکا کی تعداد مضبوط رہی، لیکن توجہ نمائش گاہوں اور ٹوکن لانچ کرنے سے ہٹ کر ادارہ جاتی ملاقاتوں، آمدنی پیدا کرنے والی مصنوعات اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے پر مرکوز ہو گئی۔ جنوبی کوریا میں بینک اور مالیاتی کمپنیاں ایکسچینجز میں حصص، لائسنس اور ادائیگی کے ذرائع حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہ سوال ابھی حل طلب ہے کہ وون اسٹیبل کوائن کون جاری کر سکتا ہے، جبکہ مرکزی بینک کا Project Hangang، CBDCs اور اسٹیبل کوائنز کے درمیان ایک درمیانی ماڈل آزما رہا ہے۔ ملک کا STO قانون فروری 2027 میں نافذ ہونے والا ہے۔ سنگاپور میں روایتی مالیاتی شعبے کے رہنماؤں نے تحویل، ٹوکنائزیشن، لیکویڈیٹی اور تصفیے کے نظام پر توجہ دی۔ مانیٹری اتھارٹی آف سنگاپور نے اسٹیبل کوائنز کے لیے ایسے قواعد تجویز کیے ہیں جن کے تحت مکمل ریزرو کی پشت پناہی، اثاثوں کو الگ رکھنا اور باقاعدہ آڈٹ لازم ہوگا۔ دونوں شہروں کی کانفرنسوں میں AI ایجنٹس گفتگو کا مرکزی موضوع رہے، لیکن مقررین نے تسلیم کیا کہ آن چین لین دین کی قابلِ ذکر مقدار ابھی محدود ہے؛ ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ اسٹیبل کوائنز کو ادائیگی کا ممکنہ ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ تجارتی سرگرمی اب مستحکم پلیٹ فارمز اور مصنوعات کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ Hyperliquid کی HIP-3 مارکیٹس نے ایک سال میں مجموعی طور پر تقریباً 6.65 ارب ڈالر کا حجم ریکارڈ کیا، جبکہ Kalshi اور Polymarket کا اگست کا مشترکہ حجم تقریباً 45.3 ارب ڈالر رہا۔ مضمون میں ایسی کرپٹو کمپنیوں میں بڑھتی دلچسپی کا بھی ذکر ہے جن کی آمدنی قابلِ پیمائش ہو، جن میں AI مصنوعات اور ٹریڈنگ ایپس شامل ہیں؛ تاہم اس میں مارکیٹ کے ارتکاز، ضابطہ جاتی خلا اور خود رپورٹ کردہ آمدنی پر انحصار کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر کرپٹو سرگرمی جاری ہے، مگر قیاس آرائی پر مبنی بیانیوں کی جگہ ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچہ اور آمدنی پر مبنی منصوبے لے رہے ہیں۔
Neutral
یہ مضمون بنیادی طور پر صنعت کی بدلتی ترجیحات کی رپورٹ ہے، نہ کہ ایسا محرک جس کا ٹوکن کی قیمتوں پر قلیل مدت میں واضح اثر ہو۔ ادارہ جاتی شرکت، اسٹیبل کوائن ادائیگیوں کا بنیادی ڈھانچہ، اور آمدنی پیدا کرنے والے منصوبوں میں دلچسپی طویل مدتی طور پر مثبت پیش رفت ہیں۔ تاہم، اے آئی ایجنٹس سے متعلق سرگرمیوں کا بڑا حصہ ابھی متوقع ہے، اور مضمون میں اہم خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے: چند تجارتی پلیٹ فارمز پر ارتکاز، غیرحل شدہ ضابطہ کاری، اور خود رپورٹ کردہ آمدنی۔ یہ ملے جلے اشارے مارکیٹ کے بارے میں غیر جانب دار مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ قلیل مدت میں، تاجر کانفرنس کے مجموعی بیانیے کے بجائے کمپنیوں کے اعلانات، ضابطہ کاری سے متعلق تازہ معلومات اور حجم کے اعداد و شمار پر چنیدہ ردعمل دے سکتے ہیں۔ قائم شدہ تجارتی پلیٹ فارمز اور فعال ایکو سسٹمز سے وابستہ ٹوکن توجہ حاصل کر سکتے ہیں، لیکن مضمون میں نئے سرمائے کی وسیع آمد یا پروٹوکولز کے جلد اپنائے جانے کا کوئی براہِ راست ثبوت نہیں دیا گیا۔ گزشتہ مارکیٹ سائیکلز میں کانفرنس سے وابستہ اسی طرح کے موضوعات اکثر عارضی قیاس آرائی کا سبب بنے، جب اعلانات کے ساتھ مصنوعات کا استعمال یا قابلِ پیمائش آمدنی موجود نہیں تھی۔ طویل مدت میں، اسٹیبل کوائنز کے واضح تر قواعد، ادارہ جاتی تحویل اور تصفیے کی خدمات، اور اے آئی مصنوعات سے ثابت شدہ آمدنی اپنانے کے عمل کو سہارا دے سکتی ہے اور ایسے منصوبوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے جن کے حقیقی صارفین ہوں اور فیس یا ٹوکن کی قدر بڑھانے کے پائیدار طریقے موجود ہوں۔ اس کے برعکس، قانون سازی میں تاخیر، ایجنٹ ٹرانزیکشنز کی کمزور طلب یا تجارتی سرگرمی میں کمی ان توقعات کو کمزور کر سکتی ہے۔ مارکیٹ کے شرکا کو اعلان کردہ منصوبوں اور جاری شدہ مصنوعات، نیز خود رپورٹ کردہ آمدنی اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ آمدنی میں فرق کرنا چاہیے۔