سرمایہ کاروں کے بانڈز خریدنے کے دوران اے آئی کے ببل کی وارننگ کرپٹو کے خطرے میں اضافہ کر رہی ہے
بینک آف امریکہ کے حکمتِ عملی کے ماہر مائیکل ہارنیٹ کے مطابق امریکی اسٹاک مارکیٹ میں 2000 کے ڈاٹ کام کریش سے پہلے کے دور جیسی علامات نظر آ رہی ہیں۔ اے آئی کا ببل اب بھی “میگنیفیسنٹ سیون” اور دیگر ٹیکنالوجی شیئرز میں مرکوز ہے، جبکہ مارکیٹ کی وسعت میں نمایاں کمزوری آئی ہے۔ S&P 500 کی تقریباً 400 کمپنیاں اپنی 50 روزہ موونگ ایوریج سے نیچے ہیں اور 300 کمپنیاں 200 روزہ اوسط سے نیچے ہیں۔ S&P 500 کا درمیانی شیئر اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 16 فیصد نیچے ہے، حالانکہ انڈیکس اب بھی ریکارڈ بلند سطح کے قریب ہے۔
ہارنیٹ نے یہ بھی خبردار کیا کہ ہائپر اسکیلرز کے سرمائے کے اخراجات ایک بڑے اے آئی سرمایہ کاری ببل کو جنم دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کریڈٹ کے دباؤ، کمزور لیکویڈیٹی اور جغرافیائی سیاسی بنیادوں پر سرمائے کے اخراج کو اہم خطرات قرار دیا۔ ان کے تازہ جائزے کے مطابق حالیہ رقوم نسبتاً محفوظ اثاثوں کی طرف جا رہی ہیں: بانڈز میں 18.8 ارب ڈالر آئے، جبکہ ایکویٹیز میں 15.8 ارب ڈالر اور کرپٹو کرنسیوں میں 900 ملین ڈالر گئے۔
ہارنیٹ نے امریکی ٹریژری بانڈز خریدنے کی تجویز دی اور اس حکمتِ عملی کو “buy humiliation” کہا۔ 10 سالہ ٹریژری کی پیداوار 5.33 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ طویل مدتی سرکاری بانڈز اور انویسٹمنٹ گریڈ ٹیکنالوجی قرض کمزور ہوئے ہیں۔ ٹریڈرز کئی خطرے کی سطحوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جن میں MOVE کا 125 سے اوپر جانا، Global Financials ETF کا 125 ڈالر سے نیچے آنا، MDY مڈ کیپ ETF کا 666 ڈالر سے نیچے جانا اور IJR اسمال کیپ ETF کا 135 ڈالر سے نیچے آنا شامل ہے۔
کرپٹو ٹریڈرز کے لیے اے آئی ببل کی یہ وارننگ قلیل مدت میں ممکنہ مندی کے ماحول کی نشاندہی کرتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی مرتکز قیادت میں الٹ پھیر وسیع پیمانے پر خطرہ کم کرنے اور کرپٹو قیمتوں پر دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم، بانڈ کی پیداوار میں کمی، لیکویڈیٹی کی بحالی یا پالیسی حمایت طویل مدت میں ڈیجیٹل اثاثوں کے حالات بہتر بنا سکتی ہے۔
Bearish
کرپٹو مارکیٹ پر فوری اثر مندی کا ہے، کیونکہ دونوں خلاصے مارکیٹ بریڈتھ میں بگاڑ، بلند ٹریژری ییلڈز، کمزور لیکویڈیٹی اور رسک والے اثاثوں کے مقابلے میں بانڈز کی بڑھتی ہوئی طلب کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگر AI اور ٹیکنالوجی کی مرتکز ریلی کا اختتام ہو جاتا ہے تو ٹریڈرز ایکویٹیز کے ساتھ ساتھ کرپٹو کرنسیز میں بھی اپنی سرمایہ کاری کم کر سکتے ہیں۔ کرپٹو کرنسیز میں رپورٹ کیا گیا 900 ملین ڈالر کا سرمایہ کاری بہاؤ بانڈز اور اسٹاکس میں جانے والے بہاؤ کے مقابلے میں بہت کم ہے، جو ڈیجیٹل اثاثوں کی نسبتاً کمزور طلب ظاہر کرتا ہے۔
قلیل مدت میں کریڈٹ دباؤ یا MOVE انڈیکس میں اضافہ اتار چڑھاؤ بڑھا سکتا ہے اور دفاعی پوزیشننگ کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے، جس سے BTC اور دیگر کرپٹو کرنسیز پر دباؤ پڑے گا۔ خطرہ خاص طور پر اس وقت زیادہ ہوگا جب ٹیکنالوجی اسٹاکس، مڈ کیپ شیئرز اور اسمال کیپ شیئرز بتائی گئی سطحوں سے نیچے چلے جائیں۔ تاہم طویل مدت میں بانڈ ییلڈز میں کمی، لیکویڈیٹی کی بحالی اور معاون مالیاتی یا زری پالیسی ڈیجیٹل اثاثوں کے مستقبل کو بہتر بنا سکتی ہے۔ یہ ممکنہ مثبت عوامل موجودہ risk-off اشاروں کا ازالہ نہیں کرتے، اس لیے مجموعی درجہ بندی بدستور مندی کی ہے۔