بٹ کوائن ذخائر کے قواعد سخت ہونے کے باوجود Strategy، MSCI انڈیکسز میں برقرار ہے
MSCI نے اپنے Global Investable Market Indexes کے لیے اہلیت کے قواعد میں ترمیم کی ہے، جس کے باعث Strategy جیسی بٹ کوائن ٹریژری کمپنیاں زیادہ سخت جانچ کے دائرے میں آ گئی ہیں۔ فی الحال Strategy انڈیکسز میں شامل ہے۔ MSCI کمپنیوں کی عملی اور مالی خصوصیات کا جائزہ لے گا، اور صرف ڈیجیٹل اثاثے رکھنے سے کسی کمپنی کو خودکار طور پر خارج نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ اجزا کو ایک حفاظتی مہلت حاصل ہے، جبکہ Strategy اور دیگر بٹ کوائن ٹریژری کمپنیوں پر اثرات MSCI کے نومبر کے جائزے میں زیادہ واضح ہونے کی توقع ہے۔ کسی کمپنی کو خارج کیے جانے پر انڈیکس کی پیروی کرنے والے فنڈز اس کے حصص فروخت کر سکتے ہیں، جس سے متاثرہ اسٹاکس پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ یہ تبدیلی ایکویٹی انڈیکسز میں شمولیت کی اہلیت سے متعلق ہے، بٹ کوائن سے نہیں، اس لیے بٹ کوائن کی تجارت پر اس کا براہِ راست اثر محدود رہنے کا امکان ہے۔
Neutral
قواعد میں یہ تبدیلی ایکویٹی انڈیکس میں شمولیت کے معیار پر مرکوز ہے اور اس سے بٹ کوائن کے پروٹوکول، رسد یا مارکیٹ تک براہِ راست رسائی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ Strategy کی انڈیکس میں شمولیت برقرار رہنے اور پہلے سے شامل کمپنیوں کے لیے رعایتی گنجائش سے انڈیکس کی وجہ سے ہونے والی فوری فروخت کے خدشات کم ہو سکتے ہیں، لیکن نومبر کے جائزے کے باعث بٹ کوائن کو بطور ٹریژری اثاثہ رکھنے والی کمپنیوں کے حصص کی کارکردگی کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔ مختصر مدت میں BTC کی تجارت میں کوئی بھی ردِعمل غالباً محدود ہوگا اور بنیادی عوامل میں تبدیلی کے بجائے مارکیٹ کے رجحان کی عکاسی کر سکتا ہے۔ طویل مدت میں انڈیکس سے اخراج بڑی مقدار میں بٹ کوائن رکھنے والی کمپنیوں کے حصص کو متاثر کر سکتا ہے اور بالواسطہ طور پر مارکیٹ کے رجحان پر اثر ڈال سکتا ہے، لیکن خلاصوں میں BTC کی قیمت میں کسی سمت مسلسل حرکت کی توقع کے لیے کوئی واضح بنیاد نہیں دی گئی۔ اس لیے بٹ کوائن پر متوقع قیمتی اثر غیر جانب دار ہے۔