MSCI کے قواعد خزانے میں کرپٹو رکھنے والی کمپنیوں کے حصص کو انڈیکس سے خارج ہونے کے خطرے میں ڈال رہے ہیں

MSCI نے اپنے Global Investable Market Indexes کے لیے اہلیت کے نئے قواعد منظور کیے ہیں، جن سے ڈیجیٹل اثاثوں کو ٹریژری میں رکھنے والی کمپنیوں، بشمول Strategy (MSTR)، Metaplanet اور Upexi (UPXI)، پر اثر پڑ سکتا ہے۔ کمپنیوں کے 50 فیصد سے زیادہ اثاثے آپریٹنگ اثاثوں کے طور پر درجہ بند ہونے چاہییں اور انہیں پانچ مالیاتی ٹیسٹ پورے کرنا ہوں گے۔ موجودہ انڈیکس ارکان کو عموماً نکالے جانے سے پہلے دو سالانہ رپورٹنگ ادوار کے دوران کم از کم چار ٹیسٹوں میں ناکام ہونا ہوگا۔ SharpLink (SBET)، TON Strategy Company (TONX)، Solana Company (HSDT) اور DeFi Development Corp. (DFDV) بھی زیرِ نگرانی فہرست میں شامل ہیں۔ MSCI کا منصوبہ ہے کہ وہ 11 نومبر کو اپنی حتمی فہرست شائع کرے، جبکہ تبدیلیاں 30 نومبر 2026 کے جائزے کے بعد نافذ ہوں گی۔ Strategy کے حصص کی ممکنہ 2.8 ارب ڈالر کی فروخت سے متعلق JPMorgan کا سابقہ تخمینہ پہلے کی تجویز پر مبنی تھا، منظور شدہ قواعد پر نہیں۔ Strategy نے کہا کہ MSCI کو ٹریک کرنے والے فنڈز کے پاس تقریباً 13 ملین حصص تھے، جو اس کے جاری عام حصص کا 3.1 فیصد اور ایک دن کے تجارتی حجم سے بھی کم ہیں۔ اگر انڈیکس کو ٹریک کرنے والے فنڈز فروخت کریں تو MSCI کا فیصلہ متاثرہ حصص پر دباؤ ڈال سکتا ہے، اگرچہ اب تک مارکیٹ کا ردِعمل محدود رہا ہے۔ کرپٹو کرنسیوں کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ابھی غیر یقینی ہے۔
Neutral
یہ خبر بنیادی طور پر اس بات سے متعلق ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی ٹریژری رکھنے والی کمپنیوں کے حصص انڈیکس میں شامل ہونے کے اہل ہیں یا نہیں، نہ کہ ان کے پاس موجود کرپٹو کرنسیوں کے بنیادی عوامل یا رسد میں کسی تبدیلی سے۔ قلیل مدت میں، انڈیکس کی وجہ سے ممکنہ فروخت متاثرہ حصص میں اتار چڑھاؤ بڑھا سکتی ہے اور کرپٹو ٹریژری کمپنیوں کے بارے میں سرمایہ کاروں کے رجحان پر اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم، Strategy کی جانب سے ظاہر کردہ انڈیکس فنڈز میں اس کے حصص ایک دن کے تجارتی حجم سے بھی کم ہیں، اور وسیع پیمانے پر نقل کیا جانے والا 2.8 ارب ڈالر کا تخمینہ ایک پہلے کی تجویز پر مبنی تھا۔ اس لیے اسے منظور شدہ قواعد کے تحت فروخت کی مصدقہ پیش گوئی نہیں سمجھنا چاہیے۔ حتمی فہرست ابھی زیرِ التوا ہے، اس لیے غیر یقینی صورتِ حال اور پوزیشنوں میں ردوبدل کی گنجائش باقی ہے۔ طویل مدت میں BTC، SOL یا TON پر کسی بھی اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا انڈیکس سے متعلق دباؤ ان کمپنیوں کی ٹوکن خریدنے اور اپنے پاس رکھنے کی صلاحیت یا آمادگی کو بدلتا ہے۔ خلاصوں میں ایسی براہِ راست تبدیلی کا کوئی ثبوت نہیں، لہٰذا مذکورہ کرپٹو کرنسیوں پر قیمت کا متوقع اثر غیر جانب دار ہے۔