Rain نے اسٹیبل کوائن خدمات کے لیے OCC سے ٹرسٹ بینک چارٹر کی درخواست کی
اسٹیبل کوائن ادائیگیوں کی کمپنی Rain نے مجوزہ نیویارک ذیلی ادارے Rain National Trust Bank کے لیے امریکی Office of the Comptroller of the Currency (OCC) سے قومی ٹرسٹ بینک چارٹر کی درخواست دی ہے۔ مجوزہ Rain بینک ڈیجیٹل اثاثوں اور امریکی ڈالرز کی تحویل کرے گا، منظور شدہ اسٹیبل کوائن جاری کنندگان کے ذخائر کا انتظام کرے گا، اور ادارہ جاتی صارفین کے لیے ڈالر سے منسلک ٹوکن جاری اور واپس خریدے گا۔ منظوری ملنے کی صورت میں تحویل اور اسٹیبل کوائن کے آپریشنز کے لیے Rain کا تیسرے فریق کے بینکوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔
مجوزہ بینک ڈپازٹس قبول نہیں کرے گا، تجارتی قرضے نہیں دے گا اور صارفین کو اکاؤنٹس فراہم نہیں کرے گا؛ اس کے بیلنس FDIC کے ڈپازٹ بیمے کے تحت بھی نہیں ہوں گے۔ Rain کا کہنا ہے کہ صارفین کے اثاثے بینک کی اپنی ملکیت سے الگ رکھے جائیں گے۔ درخواست ابھی OCC کے جائزے اور عوامی تبصروں کے مرحلے میں ہے۔ Rain نے Square Financial Services کے سابق CFO Brandon Soto کو صدر اور چیف ایگزیکٹو نامزد کیا ہے۔
یہ درخواست جولائی میں Circle کو OCC کی حتمی منظوری ملنے کے بعد سامنے آئی ہے؛ اس سے پہلے دسمبر میں Circle، Ripple، BitGo اور Fidelity کو ابتدائی منظوری ملی تھی۔ OCC کم از کم 21 قومی ٹرسٹ بینکوں کو منظوری یا مشروط منظوری دے چکا ہے، جن میں کم از کم 13 کا تعلق کرپٹو شعبے سے ہے۔ Independent Community Bankers of America نے OCC کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے اور ان کرپٹو کمپنیوں کو چارٹر دینے کے اختیار کو چیلنج کیا ہے جو روایتی بینکاری خدمات فراہم نہیں کرتیں۔ لہٰذا Rain کی OCC درخواست فوری تجارتی محرک نہیں بلکہ ضابطہ جاتی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق پیش رفت ہے۔ مقدمہ منظوری کے عمل کو پیچیدہ یا مؤخر کر سکتا ہے اور اس بات پر اثر ڈال سکتا ہے کہ امریکی کرپٹو کمپنیاں اثاثوں کی تحویل اور اسٹیبل کوائن ذخائر کا انتظام کیسے کرتی ہیں۔
Neutral
اس خبر کا کسی مخصوص کرپٹو کرنسی کی قیمت پر فوری اور واضح اثر دکھائی نہیں دیتا: دونوں خلاصوں میں کسی ایسے ٹوکن کی نشاندہی نہیں کی گئی جو Rain کی درخواست سے براہِ راست متاثر ہو۔ قلیل مدت میں اس درخواست سے کرپٹو مارکیٹ میں عمومی قیمتوں کی حرکت کا امکان کم ہے، کیونکہ اس پر فیصلہ ابھی زیرِ التوا ہے اور اس کا تعلق ادارہ جاتی بنیادی ڈھانچے سے ہے، نہ کہ ٹوکن کی رسد، طلب یا ٹریڈنگ تک رسائی میں تبدیلی سے۔ ٹریڈرز OCC کے تبصروں یا بینکنگ ایسوسی ایشن کے مقدمے میں پیش رفت پر نظر رکھ سکتے ہیں، جو اسٹیبل کوائنز کے ضابطوں سے متعلق رجحان کو متاثر کر سکتی ہے۔
طویل مدت میں منظوری سے اسٹیبل کوائنز کی تحویل اور ذخائر کے انتظام پر اداروں کا اعتماد بڑھ سکتا ہے، جس سے وسیع تر مارکیٹ کا بنیادی ڈھانچہ ممکنہ طور پر مضبوط ہوگا۔ تاہم، یہ فائدہ بالواسطہ ہے اور کسی انفرادی کوائن کے لیے براہِ راست تیزی کی دلیل نہیں بنتا۔ تاخیر یا مسترد ہونے سے ضابطہ جاتی غیر یقینی بڑھ سکتی ہے، لیکن صرف یہ درخواست کسی مخصوص کرپٹو کرنسی کے بارے میں مندی کا مؤقف اختیار کرنے کے لیے کافی نہیں۔ لہٰذا قیمت کا نقطۂ نظر غیر جانب دار ہے۔