گوارانی کی شرح 6,000 سے تجاوز کرنے پر پیراگوئے میں USDT کی طلب بڑھ گئی

ٹیتر کے سی ای او پاؤلو آردوئنو نے پیراگوئے میں USDT کی بڑھتی ہوئی طلب کو ”محفوظ پناہ گاہ کی طرف دوڑ“ قرار دیا۔ مضمون کے مطابق، ڈالر کی پشت پناہی رکھنے والے اس اسٹیبل کوائن کی پیراگوئین گوارانی کے مقابلے میں شرحِ تبادلہ تین ہفتوں سے بھی کم عرصے میں 5 فیصد سے زیادہ بڑھی اور 6,000 گوارانی سے تجاوز کر گئی۔ بٹ کوائن کے حامی سیمسن مو نے X پر ایک پوسٹ میں اس تبدیلی کی نشاندہی کی۔ رپورٹ کردہ اضافہ USDT کی مقامی طلب میں مضبوطی کی جانب اشارہ کرتا ہے، تاہم مضمون میں تجارتی حجم کے اعداد و شمار یا کرپٹو مارکیٹوں پر وسیع تر اثر کے شواہد موجود نہیں ہیں۔
Neutral
پیراگوئے میں USDT کی قیمت میں رپورٹ شدہ اضافہ ڈالر سے منسلک اثاثوں کی مقامی طلب میں مضبوطی کی نشاندہی کرتا ہے اور کرنسی کی غیر یقینی صورتِ حال سے بچاؤ کی خواہش کا اظہار ہو سکتا ہے۔ ایسے علاقوں میں بھی اسٹیبل کوائنز پر اسی طرح کے مقامی پریمیم دیکھے گئے ہیں جہاں صارفین ڈالر تک رسائی یا ملکی کرنسیوں کے متبادل تلاش کرتے ہیں۔ مختصر مدت میں یہ رجحان علاقائی تاجروں کی توجہ حاصل کر سکتا ہے اور مقامی USDT سرگرمی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم، مضمون میں تجارتی حجم، لیکویڈیٹی یا مختلف ایکسچینجز پر پریمیم کی مقدار کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے، اس لیے اس کے پیمانے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اس میں USDT کے عالمی پیگ میں تبدیلی یا کرپٹو مارکیٹ میں خطرہ مول لینے کے رجحان میں کسی وسیع تبدیلی کا بھی ذکر نہیں ہے۔ اس کی طویل مدتی اہمیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا یہ طلب برقرار رہتی ہے اور پیراگوئے سے باہر پھیلتی ہے یا نہیں۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر، یہ پیش رفت مقامی سطح پر قابلِ ذکر ہے، لیکن وسیع تر کرپٹو قیمتوں کی سمت کے بارے میں کوئی واضح اشارہ نہیں دیتی؛ اس لیے مارکیٹ کا غیر جانب دارانہ جائزہ مناسب ہے۔