Coinbase کی اسٹیٹس معلومات میں Blast نیٹ ورک کی بندش سے متعلق 26 اکتوبر 2026 کی آخری تاریخ کا ذکر تھا۔ اس میں خبردار کیا گیا تھا کہ مقررہ وقت سے پہلے Coinbase سے منتقل نہ کیے جانے والے BLAST اثاثے پلیٹ فارم کے ذریعے مزید قابلِ رسائی نہیں ہوں گے۔ صارفین کو اپنے اکاؤنٹ سے متعلق ہدایات کے لیے Coinbase کے تازہ ترین اسٹیٹس اور امدادی نوٹس دیکھنے چاہییں، اور غیر معاون نیٹ ورک کے ذریعے اثاثے جمع کرانے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ نوٹس پلیٹ فارم تک رسائی اور نیٹ ورک کی معاونت سے متعلق ہے؛ اس میں BLAST ٹوکن کی مارکیٹ قیمت کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔ BLAST رکھنے والوں پر اثر کا انحصار درست آخری تاریخ، دستیاب منتقلی کے طریقوں اور اس بات پر ہے کہ آیا منزل کے والیٹس اس اثاثے کی معاونت کرتے ہیں۔
S&P 500 Quanto USD-BRL Currency Adjusted Index امریکی ایکویٹی فیوچرز کی کارکردگی کو ٹریک کرتا ہے اور ساتھ ہی امریکی ڈالر کے مقابلے میں برازیلی ریئل کی شرحِ تبادلہ میں اتار چڑھاؤ کے اثرات کو کم کرتا ہے۔ یہ برازیل کے B3 ایکسچینج میں ٹریڈ ہونے والے اُس سہ ماہی E-mini S&P 500 فیوچر معاہدے کی پیمائش کرتا ہے جس کی میعاد سب سے پہلے ختم ہونے والی ہو، اور ہر سہ ماہی میں نئے معاہدے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ انڈیکس برازیلی سرمایہ کاروں کو USD-BRL کی شرحِ تبادلہ کی نقل و حرکت سے کم متاثر ہوتے ہوئے امریکی ایکویٹیز کی کارکردگی جانچنے کا ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ مضمون میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برازیل میں قائم فعال طور پر چلائے جانے والے امریکی ایکویٹی فنڈز کا موازنہ کرتے وقت بینچ مارک کا انتخاب نمایاں فرق ڈال سکتا ہے۔
اکتوبر کے لیے Polymarket کی ETH قیمت کی مارکیٹس میں دو حدوں کے بارے میں توقعات بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ پہلے اپ ڈیٹ میں ٹریڈرز نے یہ امکان 54% قرار دیا—جو 24 گھنٹوں میں 20 فیصدی پوائنٹس بڑھا—کہ ETH کی قیمت $2,600 تک پہنچے گی۔ بعد کے اپ ڈیٹ میں ETH کے $2,400 تک پہنچنے کا امکان 84% بتایا گیا، جو 24 گھنٹوں میں 34 فیصدی پوائنٹس کا اضافہ ہے۔ یہ مختلف شرائط والے الگ الگ کنٹریکٹس ہیں: $2,600 والی مارکیٹ کا نتیجہ “ہاں” ہوگا اگر Binance ETH/USDT کی ایک منٹ کی کینڈل میں کم از کم $2,600 کی بلند ترین قیمت ریکارڈ ہو؛ جبکہ $2,400 والی مارکیٹ کا نتیجہ “ہاں” ہوگا اگر کسی کینڈل میں $2,400 یا اس سے کم کی کم ترین قیمت ریکارڈ ہو۔ دونوں صرف Binance ETH/USDT کے ڈیٹا پر انحصار کرتی ہیں۔ Polymarket میں بدلتے ہوئے امکانات ٹریڈرز کی توقعات ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ اس بات کی تصدیق کہ ETH ان میں سے کسی قیمت تک پہنچ چکا ہے، اور نہ ہی اس کی آئندہ اختتامی قیمت کا اشارہ۔
CoreWeave کے بڑھتے ہوئے قرض اور قرض لینے کی بڑھتی لاگت نے اے آئی انفراسٹرکچر کے اسٹاکس پر دباؤ ڈالا ہے اور پورے شعبے میں مالی اعانت کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ پہلے کی رپورٹس میں اس کا قرض تقریباً 50 ارب ڈالر بتایا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ بعض بانڈز کی ییلڈ 15 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ بعد میں ڈیفالٹ سے تحفظ کی لاگت کے اندازے بڑھ کر تقریباً 1,000 بیسس پوائنٹس تک پہنچ گئے۔ قرض کے ذریعے توسیع کے خطرات پر سرمایہ کاروں کے نئے جائزے کے دوران اکتوبر میں CoreWeave کے حصص تقریباً 30 فیصد گر گئے۔
کمپنی نے 2025 میں 5.1 ارب ڈالر آمدنی اور 1.2 ارب ڈالر کا خالص نقصان رپورٹ کیا۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی کے اختتام پر اس کے پاس 104.2 ارب ڈالر کے ریونیو بیک لاگ اور 25 ارب ڈالر سے زیادہ کے اضافی وعدے تھے۔ تاہم، سرمایہ کار سوال کر رہے ہیں کہ آیا یہ معاہدے قرض اور آپریٹنگ اخراجات پورے کرنے کے لیے اتنی تیزی سے نقد رقم میں تبدیل ہوں گے یا نہیں۔ Nvidia نے اپریل 2032 تک CoreWeave کی وہ گنجائش خریدنے پر اتفاق کیا ہے جو فروخت نہیں ہو پاتی۔
یہ دباؤ دوسرے نیوکلاؤڈ فراہم کنندگان اور Oracle تک بھی پھیل گیا ہے۔ پہلے بیان کیے گئے الگ اعداد و شمار کے مطابق، اے آئی سے متعلق قرضوں کا اجرا جون کے 113 ارب ڈالر سے کم ہو کر ستمبر میں 23 ارب ڈالر رہ گیا۔ اسی دوران، دیوالیہ پن کی مارکیٹ کے اندازوں میں CoreWeave کے دیوالیہ ہونے کا امکان جنوری 2028 تک 14.5 فیصد، جنوری 2029 تک 22.5 فیصد اور جنوری 2030 تک 28.5 فیصد بتایا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اصل تشویش اے آئی کی کمزور طلب نہیں بلکہ مالی اعانت اور عمل درآمد کے خطرات ہیں۔ کرپٹو ٹریڈرز کے لیے یہ اے آئی انفراسٹرکچر کی مالی اعانت کے حالات سخت ہونے کا ایک وسیع تر اشارہ ہے، لیکن کسی بھی کرپٹو کرنسی پر اس کے براہِ راست اثرات واضح نہیں۔
BNB Chain پر Q3 2026 میں کنٹریکٹ ڈیپلائمنٹس بڑھ کر 12.3 ملین ہو گئیں، جو Q2 کے 4.5 ملین کے مقابلے میں تقریباً 173 فیصد اضافہ ہے۔ BNB Chain کے حوالے سے Blockworks کی ایک رپورٹ میں یہ اعداد و شمار پیش کیے گئے۔ یومیہ منفرد ڈیپلائرز کی تعداد 13 فیصد بڑھ کر تقریباً 5,100 ہو گئی، جبکہ روزانہ فعال پتوں کی اوسط تعداد 14 فیصد کم ہو کر 2.10 ملین رہ گئی۔ سہ ماہی لین دین 7.5 فیصد بڑھ کر 1.51 ارب ہو گئے، اور سرگرمی Predict.fun، GMGN اور ٹوکن لانچ پیڈز سمیت ایپلی کیشنز میں مرکوز رہی۔ BNB Chain پر کنٹریکٹ ڈیپلائمنٹس کی نمو ڈیپلائرز کی تعداد سے کہیں زیادہ رہی، تاہم رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ کتنے کنٹریکٹس فعال ایپلی کیشنز یا AI ایجنٹس کو سپورٹ کرتے ہیں۔ BNB Agent Studio نے Q3 کے دوران سافٹ ویئر کے چار ورژن جاری کیے، جن میں ادائیگی، آمدنی، والیٹ کنٹرول اور ڈیپلائمنٹ کی خصوصیات شامل کی گئیں۔ اکتوبر کے آغاز تک، ٹریک کی گئی ERC-8004 ایجنٹ رجسٹریشنز میں سے تقریباً 61 فیصد BNB Smart Chain پر تھیں؛ تاہم رجسٹریشن لازماً مسلسل استعمال یا آمدنی کی نشاندہی نہیں کرتی۔ ٹوکنائزڈ ایکویٹی کی ٹریڈنگ 25.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ نیٹ ورک کی آمدنی 54 فیصد بڑھ کر 54.2 ملین ڈالر ہو گئی۔ یہ اعداد و شمار بلڈرز، ٹریڈنگ اور ٹوکنائزڈ اثاثوں کی سرگرمی میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جبکہ روزانہ پتوں کی تعداد میں کمی اور ڈیپلائمنٹ کے معیار سے متعلق سوالات بھی برقرار ہیں۔
مضمون کے مطابق امریکا میں موسمی اثرات کے مطابق ایڈجسٹ کی گئی زر کی رسد ستمبر میں 113 ارب ڈالر بڑھی، جو سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2023 سے زر کی رسد ہر ماہ مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ مصنف کا مؤقف ہے کہ شرحِ سود کے ساتھ ساتھ زر کی رسد بھی مالی حالات کو جانچنے کا ایک پیمانہ ہے، اور بلند افراطِ زر فیڈرل ریزرو کی شرحِ سود کو بلند رکھنے کی صلاحیت محدود کر سکتا ہے۔ مضمون میں اعداد و شمار کے ذرائع کی تفصیل نہیں دی گئی اور نہ ہی کرپٹو کرنسی کی منڈیوں پر براہِ راست بات کی گئی ہے۔
مضمون کے مطابق بٹ کوائن (BTC) کی قیمت 80,000 ڈالر سے کم ہے، اور مصنف کا اندازہ ہے کہ کرپٹو کی اگلی تیزی شاید امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ہی شروع ہو۔ یہ مصنف کی مارکیٹ کے بارے میں رائے ہے، کوئی تصدیق شدہ پیش گوئی نہیں۔ مضمون میں آنے والی FTX ڈراما سیریز کا مختصر ذکر اور Ripple Labs کی تعریف بھی کی گئی ہے، لیکن ان دونوں کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ مضمون کا زیادہ تر حصہ برطانیہ کے ٹیکس ادارے HMRC پر مرکوز ہے: اس میں مجوزہ تبدیلیوں پر تنقید کی گئی ہے جن کے تحت افراد کے لیے National Insurance کی زائد ادائیگی واپس لینے کی مدت چھ سال سے کم کرکے چار سال کی جائے گی، جبکہ بعض کم ادائیگیوں کی وصولی کے لیے HMRC کی مدت چھ سال سے بڑھا کر 20 سال کر دی جائے گی۔ HMRC کی جانب سے دولت مند افراد کے اثاثوں کے بارے میں مزید معلومات طلب کرنے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ٹریڈرز کے لیے مارکیٹ کا اہم اشارہ بٹ کوائن کے بارے میں مصنف کا محتاط نقطۂ نظر ہے؛ مضمون میں کرپٹو پالیسی یا منصوبوں سے متعلق کسی نئی پیش رفت کی خبر نہیں دی گئی۔
Ethereum Foundation والٹس میں ڈیفالٹ پرائیویسی کی حمایت کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ صارفین کی آن چین سرگرمیوں کی تاریخ تک حملہ آوروں کی رسائی محدود کرکے سکیورٹی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ اوپن سورس Kohaku SDK میں Railgun، Privacy Pools اور Tornado Cash شامل ہیں۔ ڈیولپر Jordan Enev کے مطابق اس منصوبے کا مقصد پرائیویسی کو Ethereum کی معیاری خصوصیت بنانا ہے۔ والٹ فراہم کرنے والی کمپنی Ambire کئی ماہ سے Kohaku کے انضمام کی آزمائش کر رہی ہے اور اس نے اپنی رائے بھی دی ہے، لیکن عوامی اجرا کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ Ethereum کے محقق Nicolas Consigny اور شریک بانی Vitalik Buterin، 3 نومبر کو Devcon میں Ambire Wallet کے ساتھ Kohaku کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔ منصوبہ بند خصوصیات میں پرائیویسی پروٹوکول، لائٹ کلائنٹس اور پوسٹ کوانٹم اکاؤنٹس شامل ہیں۔ کوڈ کا کچھ حصہ اب بھی تجرباتی ہے اور اس کا آڈٹ نہیں ہوا۔ یہ پیش رفت Ethereum کی پرائیویسی اور والٹ سکیورٹی کو توجہ کا مرکز بناتی ہے، لیکن یہ نہ تو نیٹ ورک اپ گریڈ ہے اور نہ ہی کسی پروڈکٹ کے اجرا کی تصدیق؛ اس سے ٹوکن مارکیٹ کو بھی کوئی براہِ راست محرک نہیں ملتا۔
آن چین تجزیہ کار Ai Yi کے مطابق، ایک کرپٹو وہیل نے 2,252 ETH، جن کی مالیت تقریباً 5.29 ملین ڈالر ہے، OKX کو منتقل کیے ہیں۔ یہ اس ایڈریس کی تازہ ترین ڈپازٹ ہے اور رپورٹ سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے کی گئی۔ تقریباً دو ہفتوں کے دوران وہیل پر 12.41 ملین ڈالر مالیت کے ETH فروخت کرنے کا شبہ ہے۔ اس ایڈریس نے اوسطاً 2,433 ڈالر فی ETH کی لاگت پر 5,160 ETH نکالے تھے۔ اگر 2,252 ETH کی پوری ڈپازٹ فروخت کر دی جائے تو وہیل کو تقریباً 148,000 ڈالر کا نقصان ہوگا۔ یہ منتقلی قریبی مدت میں فروخت کا دباؤ بڑھا سکتی ہے، لیکن صرف ایکسچینج میں ڈپازٹ کرنے سے فروخت کی تصدیق نہیں ہوتی۔
Trust Wallet کی سیکیورٹی ٹیم نے تصدیق کی ہے کہ کرپٹو کرنسی ادائیگی کارڈ کی تشہیر کرنے والی ایک ویب سائٹ جعلی ہے، اور صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے والیٹس منسلک نہ کریں اور نہ ہی مشتبہ درخواستوں کی منظوری دیں۔ اس ویب سائٹ نے Trust Wallet کی برانڈنگ کا غلط استعمال کرتے ہوئے $100,000 کی خرچ کی حد، 8% تک کیش بیک، KYC جانچ کے بغیر سہولت، ایئرپورٹ لاؤنج تک رسائی اور $1 میں کارڈ جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
کرپٹو سیکیورٹی محقق Daniel (@0xDani) نے X پر اس ویب سائٹ کی نشاندہی کی۔ Trust Wallet کی سیکیورٹی ٹیم کے ایک نمائندے نے کہا کہ اس پیشکش کا کمپنی سے کوئی تعلق نہیں اور صارفین کو اس کی سرکاری ایپ اور ویب سائٹ کی طرف رہنمائی کی۔
والیٹ منسلک کرنا ایک اہم خطرہ ہے: صرف منسلک کرنے سے فنڈز تک خودکار رسائی نہیں ملتی، لیکن نقصان دہ ٹرانزیکشن کی منظوری یا دستخط حملہ آوروں کو ٹوکن خرچ کرنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ کسی تصدیق شدہ نقصان یا متاثرہ والیٹ کی اطلاع نہیں ملی۔ یہ انتباہ کرپٹو صارفین کے لیے فشنگ اور والیٹ خالی کیے جانے کے مسلسل خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔
OpenAI کے سی ای او سیم آلٹمین اور Oracle کے شریک سی ای او کلے میگوائرک نے اس بات پر گفتگو کی کہ AI چیٹ بوٹس سے آگے بڑھ کر کوڈنگ، انٹرپرائز سافٹ ویئر، سائبر سکیورٹی، سائنسی تحقیق اور چِپ ڈیزائن میں کیسے استعمال ہو رہی ہے۔ میگوائرک نے کہا کہ اب Oracle کا 70 فیصد سے زیادہ کوڈ AI لکھتی ہے، اور ایسے ملازمین بھی ایپلی کیشنز بنانے کے لیے AI ٹولز استعمال کر رہے ہیں جو خود کو ڈیولپر نہیں سمجھتے۔ آلٹمین نے کہا کہ کام کی جگہوں پر AI کا وسیع استعمال لوگوں کو معمول کے کام خودکار بنانے اور ایسے خیالات آزمانے میں مدد دے رہا ہے جن پر پہلے عمل کرنا بہت مشکل یا مہنگا تھا۔ انہوں نے کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ AI سکیورٹی کو ترجیح دیں، کیونکہ ماڈلز سافٹ ویئر کی دیرینہ خامیوں کا پتا لگا سکتے ہیں اور اداروں کو انہیں دور کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ آلٹمین نے سائنسی دریافت اور چِپ ڈیزائن میں AI کے کردار کا ذکر کیا، جس میں OpenAI کی Jalapeno انفرنس چِپ بھی شامل ہے، جسے Oracle Cloud Infrastructure پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ AI بالآخر بہتر اور کم خرچ خدمات فراہم کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم خبردار کیا کہ تبدیلی کی رفتار تیز ہو رہی ہے۔
تقریباً 11.7 ارب ڈالر کی مجموعی نوٹیشنل مالیت کے Bitcoin اور Ethereum آپشنز اس جمعے کو بیجنگ کے وقت کے مطابق شام 4 بجے Deribit پر ختم ہو رہے ہیں۔ ختم ہونے والے Bitcoin آپشنز میں 135,000 BTC شامل ہیں، جن کی مالیت تقریباً 10.92 ارب ڈالر ہے۔ ان کی زیادہ سے زیادہ پین قیمت 78,000 ڈالر اور پٹ/کال تناسب 0.53 ہے۔ 776 ملین ڈالر مالیت کے Ethereum آپشنز بھی ختم ہو رہے ہیں، جن کی زیادہ سے زیادہ پین قیمت 2,500 ڈالر اور پٹ/کال تناسب 0.77 ہے۔ Bitcoin اور Ethereum آپشنز کی بڑی تعداد میں میعاد ختم ہونے سے، ٹریڈرز کے پوزیشنز میں ردوبدل یا انہیں بند کرنے کے دوران، مختصر مدت میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ پین کی سطحیں محض حوالہ جاتی نکات ہیں، قیمت کی قابلِ اعتماد پیش گوئیاں نہیں۔
ایک اتار چڑھاؤ والے ہفتے کے بعد بٹ کوائن تقریباً 80,000 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہا تھا، جبکہ مارکیٹوں کی توجہ فیڈرل ریزرو کے 27–28 اکتوبر کے پالیسی اجلاس پر تھی۔ اجلاس کا شیڈول فیصلے کے نتیجے کی تصدیق نہیں کرتا: بٹ کوائن پر اس کے اثرات کا جائزہ لینے سے پہلے ٹریڈرز کو فیڈ کے فیصلے اور بیان کا انتظار کرنا ہوگا۔
مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل میں مہنگائی، معاشی نمو اور آئندہ شرحِ سود کے بارے میں فیڈ کے اشارے، نیز امریکی ڈالر اور بانڈز کے منافع میں تبدیلیاں شامل ہوں گی۔ زیادہ شرحِ سود نقد رقم اور مختصر مدت کی سیکیورٹیز کو زیادہ پُرکشش بنا سکتی ہے اور مالی حالات کو سخت کر سکتی ہے، جس سے بٹ کوائن جیسے خطرے والے اثاثوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ مارکیٹیں صرف شرحِ سود کے اعلان کے بجائے اس بات پر زیادہ ردِعمل دے سکتی ہیں کہ فیصلہ توقعات سے کتنا مختلف ہے۔
اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز میں رقوم کی آمدورفت، لیکویڈیٹی اور ڈیریویٹوز میں پوزیشننگ بھی قیمت کی نقل و حرکت پر اثر انداز ہو سکتی ہے، لیکن ایک دن کی آمد یا اخراج کسی پائیدار رجحان کو ثابت نہیں کرتا۔ بٹ کوائن کے قریبی مدت کے ردِعمل کو وسیع تر مارکیٹوں کے تناظر میں جانچنا چاہیے، نہ کہ اسے کسی نئے رجحان کا ثبوت سمجھنا چاہیے۔ مضمون میں فیڈ کے کسی حتمی فیصلے یا بٹ کوائن کی قدر میں کسی تصدیق شدہ تبدیلی کی اطلاع نہیں دی گئی۔
امریکہ کے اسپاٹ بٹ کوائن ETFs میں پیر کو 110.3 ملین ڈالر کی خالص آمد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اسپاٹ ایتھر ETFs سے 88.58 ملین ڈالر کا خالص اخراج ہوا۔ بٹ کوائن ETF میں تازہ ترین آمد مکمل طور پر BlackRock کے IBIT سے آئی، جس کی مجموعی خالص آمد 66.24 ارب ڈالر ہو چکی ہے۔ زیرِ نگرانی دیگر بٹ کوائن فنڈز نے کوئی خالص بہاؤ رپورٹ نہیں کیا۔ ایتھر ETF کے اخراج میں BlackRock کے ETHA نے سب سے بڑا حصہ ڈالا، جس سے 104.7 ملین ڈالر نکلے؛ Fidelity کے FETH نے 16.13 ملین ڈالر کی آمد کے ذریعے ان رقوم کی واپسی کا کچھ حصہ پورا کیا۔
تازہ اعداد و شمار اکتوبر میں وسیع تر فرق کو مزید نمایاں کرتے ہیں: ایتھر ETFs اس ماہ 1.1 ارب ڈالر سے زیادہ کھو چکے ہیں، جو اس سال ان کا سب سے بڑا ماہانہ اخراج ہے۔ اس کے برعکس، 23–24 اکتوبر کے آس پاس ختم ہونے والے ہفتے میں بٹ کوائن ETFs میں 301 ملین ڈالر کی خالص آمد ریکارڈ ہوئی، حالانکہ ہفتے کے آخری حصے میں تقریباً 774 ملین ڈالر کی رقوم نکالی گئیں۔ آغاز سے اب تک بٹ کوائن ETFs نے 57 ارب ڈالر سے زیادہ کی خالص آمد حاصل کی ہے اور ان کے زیرِ انتظام اثاثے تقریباً 102 سے 104 ارب ڈالر ہیں۔ ایتھر ETFs نے تقریباً 12.6 سے 12.7 ارب ڈالر حاصل کیے ہیں اور ان کے اثاثے تقریباً 14.5 سے 14.6 ارب ڈالر ہیں۔
یہ فرق بٹ کوائن ETFs کی نسبتاً مضبوط طلب کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن پیر کی آمد مختلف جاری کنندگان میں پھیلنے کے بجائے IBIT تک محدود رہی۔ Solana، XRP اور HYPE فنڈز سے بھی رقوم نکلیں، جبکہ Zcash اور NEAR مصنوعات میں آمد ریکارڈ ہوئی۔ 28 اکتوبر کو فیڈرل ریزرو کے شرحِ سود کے فیصلے سے پہلے ٹریڈرز دیکھیں گے کہ آیا بٹ کوائن ETF کی آمد وسیع ہوتی ہے اور ETHA سے رقوم کا اخراج جاری رہتا ہے۔ ایتھر تقریباً 2,309.58 ڈالر پر تھا، جبکہ 2,280–2,300 ڈالر کی حد کو اہم سپورٹ زون قرار دیا گیا۔
کرپٹو کے روایتی مالیات میں بڑھتے ہوئے انضمام کے ساتھ، SEC کرپٹو کی تحویل، ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز اور ڈیجیٹل اثاثوں کے اجرا کے لیے مزید تفصیلی قواعد کی جانب بڑھ رہا ہے۔ SEC کے مجوزہ کرپٹو تحویل کے قواعد، رجسٹرڈ سرمایہ کاری مشیروں اور کرپٹو اثاثے رکھنے والے ضابطہ بند فنڈز کے لیے تقاضے مقرر کریں گے، اور ریکارڈ رکھنے اور رپورٹنگ کے قواعد کو تازہ کریں گے۔ عوام 7 دسمبر 2026 تک اپنی آرا دے سکتے ہیں۔
مالی سال 2027 کے معائنے کی ترجیحات میں ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز بھی شامل ہیں۔ SEC روایتی سیکیورٹیز کو بلاک چین کے بنیادی ڈھانچے پر منتقل کرنے سے پیدا ہونے والے خطرات کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ستمبر میں ادارے نے Innovation Exemption متعارف کرائی، جس کے تحت مخصوص تجارتی پلیٹ فارم عارضی رعایت کے تحت بلاک چین پر مبنی اسٹاک ٹریڈنگ میں سہولت دے سکتے ہیں۔ اس اقدام نے تجارتی اداروں کی دلچسپی حاصل کی ہے، جبکہ کم از کم 22 کمپنیوں نے OKX اور Intercontinental Exchange کی حمایت یافتہ مجوزہ ٹوکنائزیشن پلیٹ فارم پر اعتراض کیا ہے۔
علاوہ ازیں، SEC Regulation Crypto Assets پر غور کر رہا ہے، جو بعض سرمایہ کاری معاہدوں کی پیشکشوں کے لیے استثنا فراہم کرے گا: چار سال کے دوران زیادہ سے زیادہ 5 ملین ڈالر اور 12 ماہ کے دوران زیادہ سے زیادہ 75 ملین ڈالر، مخصوص شرائط کے تابع۔ مشروط محفوظ بندوبست یہ بھی واضح کر سکتا ہے کہ اہل ٹوکن کب سرمایہ کاری معاہدے کی تعریف میں شامل نہیں ہوں گے۔
مجموعی طور پر، SEC کے کرپٹو قواعد وسیع غیر یقینی صورتِ حال سے آگے بڑھ کر تحویل، ٹوکنائزڈ مارکیٹوں اور سرمایہ اکٹھا کرنے کے لیے مخصوص تقاضوں کی طرف منتقلی کا اشارہ دیتے ہیں۔ وقت کے ساتھ زیادہ وضاحت ادارہ جاتی شمولیت میں مدد دے سکتی ہے، لیکن تعمیل کے اخراجات اور نفاذ کے خطرات کرپٹو کمپنیوں اور تاجروں کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔
بٹ کوائن کی قیمت 80,000 ڈالر سے نیچے گرنے کے باعث 24 گھنٹوں میں تقریباً 815 ملین ڈالر کی کرپٹو لیکویڈیشن ہوئی، جس سے 200,000 سے زیادہ ٹریڈرز متاثر ہوئے۔ زیادہ تر نقصان لانگ پوزیشنز میں ہوا: چار گھنٹوں کے دوران تقریباً 402 ملین ڈالر کی لانگ پوزیشنز لیکویڈیٹ ہوئیں، اور اس مدت میں بٹ کوائن کی 94 فیصد سے زیادہ اور ایتھیریم کی 92 فیصد لیکویڈیشنز لانگ پوزیشنز کی تھیں۔
24 اکتوبر کو بٹ کوائن کی قیمت عارضی طور پر تقریباً 79,280 ڈالر تک پہنچ گئی۔ فیوچرز اوپن انٹرسٹ 2.2 فیصد کم ہو کر 140.1 ارب ڈالر رہ گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ٹریڈرز پوزیشنز بند کر کے لیوریج کم کر رہے تھے۔ زیادہ لیوریج قیمت کی تیز حرکت کو لیکویڈیشن کے سلسلے میں بدل سکتا ہے، کیونکہ جبری فروخت دباؤ میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
یہ فروخت ڈیریویٹوز کی بڑھتی ہوئی سرگرمی کے دوران اور فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس سے پہلے ہوئی، جس سے قلیل مدتی اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔ ستمبر میں مرکزی ایکسچینجز کے تجارتی حجم کا 77.6 فیصد ڈیریویٹوز پر مشتمل تھا۔ ٹریڈرز غالباً اوپن انٹرسٹ، فنڈنگ ریٹس اور لیکویڈیشن کی سطحوں پر نظر رکھیں گے تاکہ ضرورت سے زیادہ بھیڑ والی پوزیشنز کے آثار دیکھ سکیں۔
اگر کافی طاقتور کوانٹم کمپیوٹر شَور کا الگورتھم استعمال کرکے ایلیپٹک-کرو دستخط توڑ سکیں تو بلاک چین نیٹ ورکس کو مستقبل میں سکیورٹی کے چیلنج کا سامنا ہوگا۔ فی الحال کوئی کوانٹم کمپیوٹر مطلوبہ پیمانے پر ایسا نہیں کرسکتا، لیکن بلاک چین کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے میں وقت لگتا ہے۔ مضمون کے مطابق، پوسٹ کوانٹم کرپٹوگرافی کے لیے مربوط منتقلی ضروری ہے—صرف الگورتھم بدل دینا کافی نہیں۔ NIST نے 2024 میں ڈیجیٹل دستخط کے دو معیارات کو حتمی شکل دی: ML-DSA اور SLH-DSA۔ ان کے دستخط بڑے ہیں اور تصدیق کے تقاضے مختلف ہیں، جس سے ٹرانزیکشن فیس، نیٹ ورک کی گنجائش، والٹس، اسمارٹ کنٹریکٹس اور تحویل کے نظام متاثر ہوسکتے ہیں۔ ٹیموں کو کرپٹوگرافک انحصارات کا نقشہ بنانا، کارکردگی اور بحالی کے طریقۂ کار آزمانا، اور ایسے ورژن شدہ تصدیقی نظام بنانا چاہییں جنہیں تبدیل کیا جاسکے۔ ہائبرڈ دستخط منتقلی میں مدد دے سکتے ہیں، لیکن ان کے لیے محتاط ڈیزائن ضروری ہے۔ ایک اہم غیرحل شدہ سوال یہ ہے کہ ایسے غیر فعال اکاؤنٹس سے کیسے نمٹا جائے جن کے مالکان منتقلی نہیں کرسکتے۔ مضمون مرحلہ وار آزمائش اور نفاذ کی سفارش کرتا ہے، اور یہ بھی بتاتا ہے کہ ایتھیریئم کی پوسٹ کوانٹم تحقیق اور روڈمیپ ابھی ارتقا پذیر ہیں۔ کرپٹو ٹریڈرز کے لیے فوری پیغام یہ ہے کہ پوسٹ کوانٹم دستخطوں کی طرف منتقلی طویل مدتی بنیادی ڈھانچے اور حکمرانی کا معاملہ ہے، نہ کہ کسی جاری کوانٹم حملے کا ثبوت یا فوری مارکیٹ محرک۔
Danelfin اور Tickeron اسٹاک ٹریڈنگ کے لیے مختلف AI ٹولز پیش کرتے ہیں، لیکن کارکردگی سے متعلق ان کے دعووں میں شفافیت کی سطح مختلف ہے۔ Danelfin امریکا اور یورپ کے تقریباً 5,600 اسٹاکس کو 1–10 کے پیمانے پر ریٹنگ دیتا ہے؛ صارفین خود ٹریڈ کرتے ہیں۔ اس کے عوامی آڈٹ کے مطابق موجودہ ماڈل 7 جولائی 2025 کو فعال ہوا۔ آغاز کے بعد سے 8–10 ریٹنگ والے اسٹاکس کا تین ماہ کا اوسط الفا −0.5% رہا، جبکہ بیک ٹیسٹ میں اسی نوعیت کے گروپ کا اوسط +2.2% تھا۔ آڈٹ میں سروائیورشپ بائس کی نشاندہی بھی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ تاریخی طور پر سب سے مضبوط نتائج زیادہ تر 2017–19 میں رہے۔
Tickeron قلیل مدتی ٹریڈنگ سگنلز، پیٹرن ٹولز اور بوٹس فراہم کرتا ہے، جن میں ایسے ایجنٹس بھی شامل ہیں جنہیں صارفین Tickeron کے اپنے بروکریج اکاؤنٹس سے کاپی کر سکتے ہیں۔ اس کے بوٹ صفحے پر 419 مکمل شدہ ٹریڈز کے دوران 191% سالانہ شرحِ منافع کا اشتہار دیا گیا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سا بوٹ تھا، کون سی تاریخوں کا نتیجہ ہے، یا یہ لائیو ٹریڈنگ سے حاصل ہوا یا بیک ٹیسٹ سے۔ Tickeron کی عوامی قیمتوں کی ویب سائٹ بھی موجود نہیں۔
اس موازنے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ Danelfin تاریخ کے ساتھ آڈٹ شائع کرتا ہے، جبکہ فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر Tickeron کے نمایاں منافع کے دعوے کی تصدیق مشکل ہے۔ ان میں سے کوئی دعویٰ مستقبل کی قابلِ اعتماد کارکردگی ثابت نہیں کرتا۔ مضمون کے مطابق milo براہِ راست متبادل نہیں: یہ اسٹاکس کے لیے SEC فائلنگز اور اندرونی افراد کی ٹریڈز پر نظر رکھتا ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ ایجنٹس پیش کرتا ہے، لیکن اس کی اسٹاک سے متعلق سہولتیں تحقیق اور پیپر ٹریڈنگ تک محدود ہیں۔
Neutral
AI stock tradingDanelfinTickeronTrading botsPerformance claims
ایک NFT کلیکٹر کا کہنا ہے کہ جلدبازی میں منٹ کرنے کے باعث اس کا والٹ خالی ہو گیا، جب اس نے اسے ایک ویب سائٹ سے منسلک کیا اور لین دین کی جانچ کیے بغیر منظوری دے دی۔ مصنف کے مطابق، FOMO کی وجہ سے وہ ایک لنک پر بھروسا کر بیٹھا اور والٹ کی منظوری پر دستخط کر دیے، جس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا۔ وعدہ کیا گیا NFT کبھی ظاہر نہیں ہوا، جبکہ اس کی جمع کی ہوئی ETH چند منٹوں میں چوری ہو گئی۔ وہ رقم واپس حاصل نہ کر سکا۔ یہ تجربہ NFT والٹ خالی ہونے کے خطرات کو نمایاں کرتا ہے، جن میں نقصان دہ لنکس اور ٹوکنز تک غیر محدود رسائی کی منظوری شامل ہیں۔ مصنف صارفین کو مشورہ دیتا ہے کہ ویب سائٹس کی تصدیق کریں، لین دین کی تفصیلات پڑھیں، اور توجہ بٹی ہوئی ہو یا محض مقبولیت کے پیچھے بھاگ رہے ہوں تو دستخط نہ کریں۔
Janus Henderson اور Centrifuge نے Stellar بلاک چین پر Nasdaq-100 انڈیکس کو ٹریک کرنے والا ٹوکنائزڈ فنڈ JQQQ متعارف کرایا ہے۔ یہ انڈیکس کو ٹریک کرنے والی پہلی باضابطہ لائسنس یافتہ ٹوکنائزڈ پروڈکٹ ہے اور ابتدا میں امریکا سے باہر اہل پیشہ ور سرمایہ کاروں کے لیے دستیاب ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم سرمایہ کاری 100,000 ڈالر ہے۔ یہ انڈیکس میں بالواسطہ سرمایہ کاری کی سہولت دیتا ہے، نہ کہ اس میں شامل حصص کی براہِ راست ملکیت۔
اس اجرا سے Janus Henderson کی بلاک چین پر مبنی فنڈز کی پیشکش میں اضافہ ہوا ہے۔ فرم کے مطابق ان فنڈز کے اثاثے 1 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں اور ان کی مصنوعات تقریباً 200 کرپٹو والیٹس کے ذریعے استعمال کی جاتی ہیں۔ RWA.xyz کے مطابق Stellar پر تقریباً 3.8 ارب ڈالر کے ٹوکنائزڈ اثاثے ہیں، جس سے یہ بلاک چینز میں چوتھے نمبر پر ہے۔ دیگر ادارہ جاتی سرگرمیوں میں XRP Ledger پر Aviva Investors کا ٹوکنائزڈ شیئر کلاس اور Depository Trust & Clearing Corporation کی ٹوکنائزیشن سروس کو Stellar سے جوڑنے کا منصوبہ شامل ہے۔ ممکن ہے کہ اثاثے 2027 کی پہلی ششماہی میں دستیاب ہوں۔ Franklin Templeton اور Animoca Brands بھی ٹوکنائزڈ اثاثوں کے اقدامات پر کام کر رہے ہیں۔
JQQQ کرپٹو میں براہِ راست سرمایہ کاری نہیں، اس لیے کرپٹو ٹریڈنگ پر اس کا فوری اثر محدود ہو سکتا ہے۔ یہ اجرا ٹوکنائزڈ فنڈز کو ادارہ جاتی سطح پر طویل مدتی اپنانے کی حمایت کرتا ہے، تاہم لیکویڈیٹی، ضابطہ کاری اور باہمی مطابقت اب بھی چیلنجز ہیں۔ رپورٹ کے مطابق Stellar کا ٹوکن XLM سال کے آغاز سے تقریباً 16 فیصد نیچے ہے اور اس کی قیمت 0.17 ڈالر کے قریب ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی دنیا کے اثاثوں (RWA) کی سرگرمی میں اضافہ لازماً قلیل مدت میں ٹوکن کی قیمتوں میں اضافے کا باعث نہیں بنتا۔
Keystone کا کہنا ہے کہ اس کی ویب سائٹ میں نقب لگانے والے ہیکرز نے صارفین کی معلومات کے علاوہ ایک ایسی تصدیقی کلید بھی چُرا لی جو اصلی ڈیوائسز کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ افشا ہونے والی یہ کلید جعلی ہارڈویئر والیٹس کو اصلی ہونے کی جانچ میں کامیاب ہونے کا موقع دے سکتی ہے، جس سے صارفین کے ریکوری فریز اور کرپٹو اثاثے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
Keystone کے ہارڈویئر والیٹ میں یہ نقب سپلائی چین کے بڑھتے ہوئے خطرات کو نمایاں کرتی ہے۔ مضمون میں بعض Ledger ڈیوائسز میں غیر مجاز ہارڈویئر امپلانٹس، Coldcard کے X اکاؤنٹ پر فشنگ لنک، اور NGRAVE صارفین کو نشانہ بنانے والی فشنگ مہم کی اطلاعات کا بھی ذکر ہے۔ ان واقعات میں بلاک چین کی کرپٹوگرافی توڑنے کے بجائے والیٹس کے گرد موجود نظاموں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جنوری سے اگست 2026 تک ہونے والے 60 بڑے آن چین حملوں کے Blockaid کے تجزیے سے پتا چلا کہ حملہ آوروں نے تقریباً 1.18 ارب ڈالر مالیت کے چُرائے گئے اثاثوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ چُرائی گئی رقوم منتقل ہونا شروع ہونے تک درمیانی وقت 17 منٹ تھا، جبکہ رپورٹ کی آخری تاریخ تک صرف 9.8 ملین ڈالر واپس کیے گئے تھے۔
صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ہارڈویئر والیٹس قابلِ اعتماد ذرائع سے خریدیں، سیٹ اپ کے دوران نیا ریکوری فریز بنائیں، اور فرم ویئر کی اپ ڈیٹس کی تصدیق سرکاری ذرائع سے کریں۔ Keystone میں نقب لگنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہارڈویئر والیٹس اپنی اصل میں غیر محفوظ ہیں، البتہ یہ ڈیوائس کی اصلیت اور سپلائی چین کی سکیورٹی کی اہمیت واضح کرتی ہے۔
NVIDIA کے CEO جینسن ہوانگ AI کو پانچ تہوں پر مشتمل نظام قرار دیتے ہیں: توانائی، چپس، انفراسٹرکچر، ماڈلز اور ایپلی کیشنز۔ مضمون اس کا موازنہ Bitcoin کے ممکنہ پانچ تہوں والے تصور سے کرتا ہے: پروف آف ورک، نوڈز، بلاک چین، ٹرانزیکشنز اور Script، اور ایپلی کیشنز۔
دونوں نظاموں کے مقاصد مختلف ہیں۔ AI انفراسٹرکچر توانائی اور کمپیوٹنگ کی طاقت کو ذہانت میں بدلتا ہے؛ Bitcoin ٹرانزیکشنز اور کرپٹوگرافک ثبوتوں کو ایک مشترکہ، قابلِ تصدیق ریکارڈ میں تبدیل کرتا ہے۔ جیسے جیسے خودکار AI ایجنٹس خریداری کرنے، خدمات استعمال کرنے اور دوسرے ایجنٹس سے رابطہ کرنے کے قابل ہو رہے ہیں، کاروباری اداروں کو ان کی شناخت، اجازتوں اور کارروائیوں کے قابلِ اعتماد ریکارڈز درکار ہو سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل دستخط، پروگرام کیے جا سکنے والے ضوابط اور وقت کے اندراج والی ٹرانزیکشنز جیسے Bitcoin کے اوزار ان کارروائیوں کو دستاویزی شکل دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔ تاہم، بلاک چین یہ تصدیق کر سکتی ہے کہ کیا ریکارڈ کیا گیا اور کب کیا گیا، لیکن یہ نہیں کہ بنیادی حقیقی دنیا کا دعویٰ درست ہے یا نہیں۔ مضمون یہ بھی کہتا ہے کہ اگر AI نظام بڑی تعداد میں ریکارڈ تیار کریں تو بلاک چین کی توسیع پذیری اہم ہوگی۔ یہ موازنہ تصوراتی ہے اور کسی تصدیق شدہ شراکت داری یا مارکیٹ اعلان کی وضاحت نہیں کرتا۔
کرپٹو آن ریمپ سرگرمی میں اسٹیبل کوائن ادائیگیوں کا حصہ بڑھ رہا ہے، جبکہ کاروباروں کے پاس فیاٹ کرنسی کو کرپٹو پلیٹ فارمز میں لانے اور وہاں سے نکالنے کے لیے مختلف راستے ہیں۔ Mercuryo نے بتایا کہ 2026 کی پہلی ششماہی میں اس کے آن ریمپ کے ذریعے پراسیس کی گئی کرپٹو خریداریوں کی مالیت کا 60% اسٹیبل کوائنز پر مشتمل تھا، جو چھ ماہ پہلے 43% تھا۔ اس کے قبول کردہ اسٹیبل کوائن آف ریمپ لین دین میں سال بہ سال 446% اضافہ ہوا۔ یہ اعدادوشمار ایک فراہم کنندہ کی سرگرمی ظاہر کرتے ہیں، پوری مارکیٹ کی نہیں۔
مضمون کاروباری استعمال کے لیے ادائیگی کے راستوں اور فراہم کنندگان کا موازنہ کرتا ہے۔ SEPA یورو کی منتقلی کی سہولت دیتا ہے، SWIFT بین الاقوامی بینک ادائیگیاں سنبھالتا ہے، جبکہ SIC سوئس فرانک کی منتقلی پراسیس کرتا ہے۔ اس میں ZEN.COM کے ذریعے مقامی PLN ادائیگیوں کے ساتھ دیگر مارکیٹوں کے لیے ACH اور PIX کا بھی ذکر ہے۔
WhiteBIT On/Off-Ramp میں دیگر کرنسیوں کے ساتھ SEPA کے ذریعے EUR اور ZEN.COM کے ذریعے PLN شامل ہیں۔ Kraken Ramp (Payward Ramp) ادارہ جاتی انضمام کی سہولت دیتا ہے، جس میں SEPA، ACH، PIX اور کارڈز سمیت 24 سے زیادہ ادائیگی کے طریقے شامل ہیں۔ zerohash، ACH، RTP، SEPA اور ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والوں کے ذریعے فیاٹ سے کرپٹو اور کرپٹو سے فیاٹ کی خدمات فراہم کرتا ہے۔
ٹریڈرز اور کرپٹو کاروباروں کے لیے اہم بات صرف معاون کرنسیوں کی تعداد نہیں۔ دستیابی، فیس، تصفیے کی رفتار، اہلیت اور انضمام مارکیٹ اور فراہم کنندہ کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ اسٹیبل کوائن ادائیگیوں میں رپورٹ شدہ اضافہ فیاٹ سے کرپٹو کے لین دین میں اسٹیبل کوائنز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن مضمون میں کرپٹو قیمتوں پر براہِ راست اثر کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا۔
Ethereum پر EIP-7702 ڈیلیگیٹس کے طور پر استعمال ہونے والے 59 کنٹریکٹس کے جائزے میں پتا چلا کہ دس کنٹریکٹس میں وہ میٹا ڈیٹا ہیش موجود نہیں تھا جو عموماً Solidity بائٹ کوڈ کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے۔ ان دس میں سے نو کنٹریکٹس کا تصدیق شدہ سورس کوڈ اس کے باوجود Blockscout پر موجود ہے؛ مکمل میٹا ڈیٹا ہیش برقرار رکھنے والے 46 کنٹریکٹس میں سے 21 وہاں تصدیق شدہ ہیں۔
اس نمونے میں 8 ستمبر کو Ethereum کے 200 بلاکس کے دورانیے سے 1,178 اجازت نامے شامل تھے۔ میٹا ڈیٹا ہیش کے بغیر ڈیلیگیٹس کو بھیجے گئے اجازت ناموں میں سے 371 میں سے 369 ایسے کنٹریکٹس کی طرف تھے جن کا سورس کوڈ شائع کیا گیا تھا۔ اس کے مقابلے میں، مکمل ہیش والے کنٹریکٹس کو بھیجے گئے 774 اجازت ناموں میں سے 324 نے ایسا کیا۔
ہیش ہٹائے گئے کنٹریکٹس میں Uniswap کا CaliburEntry اور Alchemy کا SemiModularAccount7702 جیسے منصوبے شامل ہیں۔ تجزیے سے اشارہ ملتا ہے کہ میٹا ڈیٹا تبدیل ہونے پر ہیش ہٹانے سے بائٹ کوڈ کو مستحکم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن منصوبوں نے اپنی وجوہات بیان نہیں کیں۔ یہ نتیجہ کوڈ کی تصدیق اور کنٹریکٹ کی شفافیت سے متعلق ہے، نہ کہ Ethereum کے مارکیٹ کے بنیادی عوامل میں تبدیلی سے۔ اس کا دائرہ ایک بلاک نمونے اور دو تصدیقی خدمات تک محدود ہے۔
مارکیٹیں فیڈرل ریزرو کے فیصلے کی منتظر تھیں، اسی دوران بٹ کوائن تقریباً 79,750 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا۔ ٹریڈرز تیل کی قیمتوں اور مہنگائی کے خطرات پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر تقریباً 110 ڈالر فی بیرل رہ گئی، تاہم جاری حملوں اور امریکہ کی جانب سے مزید حملوں کے اشاروں نے جغرافیائی سیاسی خطرات کو توجہ کا مرکز بنائے رکھا۔
مارکیٹوں کے مطابق بدھ کو فیڈ کی جانب سے شرحِ سود برقرار رکھنے کا امکان تقریباً 90 فیصد ہے، جبکہ دسمبر میں شرح بڑھنے کا امکان تقریباً 73 فیصد ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی سے متعلق خدشات کو برقرار رکھ سکتی ہیں اور مستقبل کی پالیسی کے بارے میں توقعات پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ پیر کو امریکی حصص میں اضافہ ہوا، جس کی قیادت ٹیکنالوجی کے حصص نے کی، جبکہ ایشیائی مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان رہا۔ ٹریڈرز امریکی صارفین کے اعتماد، پائیدار اشیا اور نئے گھروں کی فروخت کے اعداد و شمار پر بھی نظر رکھے ہوئے تھے۔ قریب المدت میں بٹ کوائن کی سمت اس بات پر منحصر ہو سکتی ہے کہ فیڈ مہنگائی اور معاشی حالات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتا ہے۔
جنوبی کوریا کے میڈیا اور ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹر نے ایپ کے اندر ادائیگی کے قواعد کے معاملے پر گوگل اور ایپل پر مجموعی طور پر 63.7 ارب وون (تقریباً 48 ملین ڈالر) جرمانہ عائد کیا ہے۔ گوگل تقریباً 42.9 ارب وون اور ایپل 20.8 ارب وون ادا کرے گا۔
ریگولیٹرز کے مطابق، کمپنیوں نے ڈویلپرز پر اپنے ملکیتی ادائیگی کے نظام استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور تیسرے فریق کے ادائیگی کے طریقوں پر تقریباً 26 فیصد فیس وصول کی۔ جنوبی کوریا کے ٹیلی کمیونیکیشن بزنس ایکٹ کے تحت تحقیقات اگست 2022 میں شروع ہوئیں، جبکہ ابتدائی سزاؤں کا اعلان اکتوبر 2023 میں کیا گیا۔ اس مقدمے میں اینٹی اسٹیئرنگ قواعد کا بھی جائزہ لیا گیا، جو ڈویلپرز کو صارفین کو کم لاگت والے بیرونی ادائیگی کے طریقوں کی طرف بھیجنے سے روک سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ جنوبی کوریا میں ایپ مارکیٹ پلیس کی پالیسیوں اور ڈویلپرز کے اخراجات کو متاثر کر سکتا ہے۔ کرپٹو کرنسی کی قیمتوں پر اس کے براہِ راست اثرات محدود ہیں، تاہم اس سے بڑے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل ادائیگیوں پر ان کے کنٹرول کی عالمی سطح پر مزید جانچ پڑتال ہو سکتی ہے۔
Neutral
GoogleAppleSouth Korea regulationIn-app paymentsDigital platforms
چین کی مجوزہ اے آئی برآمدی پابندیاں بیرونِ ملک صارفین کو ایپس، اے پی آئیز اور کلاؤڈ سروسز کے ذریعے چینی ماڈلز استعمال کرنے کی اجازت دیں گی، جبکہ بنیادی ٹیکنالوجی تک رسائی محدود ہوگی۔ مسودے میں ماڈل ویٹس، سورس کوڈ، تربیتی ڈیٹا اور مہارت کے ساتھ ساتھ ملکیت میں بعض تبدیلیاں اور بیرونِ ملک تعیناتی بھی شامل ہیں۔ اس میں برآمدی کنٹرول کے لیے 40 ٹیکنالوجیز کی نشاندہی کی گئی ہے: 23 کا تعلق اے آئی، 12 کا فوٹو وولٹائکس اور پانچ کا بایومیڈیسن سے ہے۔ ان میں سے 14 کی برآمد ممنوع ہوگی اور 26 کے لیے لائسنس درکار ہوگا۔ اے آئی کنٹرولز کا ہدف ایسے نظام ہیں جن کی تربیتی کمپیوٹنگ کم از کم 10²⁶ FLOPs ہو یا جن میں کم از کم دو ٹریلین پیرامیٹرز ہوں۔ یہ تجویز برآمد سے پہلے رجسٹریشن کی عبوری شرط کے بعد سامنے آئی ہے؛ عوامی مشاورت 15 نومبر 2026 تک جاری رہے گی اور حتمی قواعد سال کے اختتام تک متوقع ہیں۔ اوپن سورس سے مطابقت رکھنے والے منصوبے خودکار لائسنس کے اہل ہو سکتے ہیں۔ تاجروں کے لیے چین کے اے آئی برآمدی کنٹرولز ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سپلائی چینز کے لیے غیر یقینی صورتِ حال بڑھاتے ہیں، تاہم دونوں خلاصوں میں کسی بھی کرپٹو کرنسی کی قیمت پر براہِ راست اثر کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
Neutral
China AIAI export controlsTechnology policySemiconductorsPhotovoltaics
Alphabet نے اپنے Tensor Processing Unit (TPU) چپس منتخب بیرونی صارفین کو براہِ راست فروخت کرنا شروع کر دیے ہیں، یوں وہ اپنے سابقہ ماڈل سے آگے بڑھ گیا ہے جس میں رسائی صرف Google Cloud کے ذریعے دی جاتی تھی۔ پہلے سسٹمز 2026 کی دوسری سہ ماہی میں صارفین کے ڈیٹا سینٹرز تک پہنچائے گئے، جس سے براہِ راست فروخت کی ابتدائی آمدنی حاصل ہوئی۔ Alphabet کو توقع ہے کہ موجودہ معاہدوں کی زیادہ تر آمدنی 2027 میں حاصل ہوگی، جبکہ بڑے پیمانے پر آلات کے آرڈرز کے باعث سہ ماہی فروخت میں اتار چڑھاؤ کا امکان ہے۔
Meta اپنے ڈیٹا سینٹرز میں پیداواری کاموں کے لیے TPU استعمال کر رہا ہے۔ Oracle کا منصوبہ ہے کہ 2027 میں Oracle Cloud Infrastructure کے ذریعے یہ چپس پیش کرے؛ اس طرح وہ Google سے باہر ایسا کرنے والا پہلا ہائپر اسکیلر بن جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ بیرونی صارفین کو TPU کی فروخت سے آمدنی 2026 میں تقریباً 8 ارب ڈالر اور 2027 میں 51 ارب سے 75 ارب ڈالر سے زیادہ تک پہنچ سکتی ہے، تاہم یہ اندازے ہیں، کمپنی کی جانب سے دی گئی رہنمائی نہیں۔ یہ وعدے دوسری سہ ماہی کے اختتام پر Google Cloud کے 514 ارب ڈالر کے بیک لاگ میں شامل ہیں۔ TPU فروخت کے اثرات شامل ہونے سے پہلے، دوسری سہ ماہی میں Google Cloud کی آمدنی سال بہ سال 82 فیصد بڑھ کر 24.8 ارب ڈالر ہوگئی۔
اس اقدام سے Alphabet کو AI ایکسیلیریٹرز کے شعبے میں Nvidia کا مقابلہ کرنے کا ایک نیا راستہ ملتا ہے اور اس کے کسٹم چپس کی مارکیٹ وسیع ہوتی ہے۔ اس کا اختیار کیا جانا جزوی طور پر ڈویلپرز کے سافٹ ویئر ٹولز کے ساتھ مطابقت بہتر بنانے پر منحصر ہوگا۔ ٹریڈرز کے لیے اہم اشارے مستقبل میں TPU آمدنی سے متعلق انکشافات، 2027 میں ترسیل کی پیش رفت، اور یہ بات ہیں کہ آیا مزید کلاؤڈ فراہم کنندگان یہ ہارڈویئر اپناتے ہیں۔
اکتوبر میں دوسری بار XRP نے 1.26 ڈالر کی سپورٹ سطح سے بحالی کی ہے اور اب 1.34 ڈالر کے قریب مزاحمت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ سطح 0.5 فبوناکی ریٹریسمنٹ اور نزولی چینل کی بالائی حد کے ساتھ ملتی ہے، جس کی وجہ سے یہ مختصر مدت میں XRP کی قیمت کے رجحان کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔
1.34 ڈالر سے اوپر فیصلہ کن بریک آؤٹ 1.40 ڈالر تک جانے کی راہ کھول سکتا ہے، جبکہ 1.50 ڈالر اس کے بعد مزاحمت کی ایک اور سطح ہے۔ تاہم، نزولی چینل اب بھی برقرار ہے، اور قیمت کو یہاں مسترد کیے جانے پر XRP دوبارہ 1.26 ڈالر کی سطح آزما سکتا ہے۔ روزانہ اختتام اس سپورٹ سے نیچے ہونے کی صورت میں قیمت 1.20 ڈالر اور پھر 1.14 ڈالر تک گر سکتی ہے۔ خریداروں نے سپورٹ کا دفاع کیا ہے، لیکن بحالیوں نے ابھی تک رجحان کی تبدیلی کی تصدیق نہیں کی۔
Bearish
XRPTechnical analysisSupport and resistanceFibonacci retracementDescending channel