ہانگ کانگ کے ہارڈویئر ادارے HKEPC کی 23 اکتوبر کو شیئر کی گئی ویڈیو میں Nvidia RTX 5090 گرافکس کارڈز کی نئی کھیپوں کو کھول کر AI سرورز کے لیے دو سلاٹ والے بلوئر کارڈز میں تبدیل کرتے دکھایا گیا ہے۔ کارکن اصل کولر اتار کر GPU اور میموری کو نئے سرکٹ بورڈز پر منتقل کرتے ہیں، پھر تیار کارڈز کی جانچ کرتے ہیں۔ یہ پتلا ڈیزائن حرارت کو سرور سے باہر نکالتا ہے اور مزید کارڈز کو ساتھ ساتھ نصب کرنے کی گنجائش دیتا ہے۔
ویڈیو سے یہ تصدیق نہیں ہوتی کہ فیکٹری کہاں ہے یا کارڈز وہاں کیسے پہنچے۔ بعض رپورٹس میں چین کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں امریکی برآمدی پابندیوں کے تحت مکمل RTX 5090 کی فروخت ممنوع ہے؛ تاہم، مضمون کے مطابق صرف ویڈیو سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کارڈز کہاں سے حاصل کیے گئے۔
Nvidia کے ایگزیکٹو جیف فشر نے 16 اکتوبر کو اس بات کی تردید کی کہ RTX 5090 کی پیداوار بند کر دی گئی ہے، لیکن بہتری کا کوئی وقت بتائے بغیر رسد کی کمی تسلیم کی۔ مضمون میں دی گئی امریکی ریٹیلرز کی فہرستوں کے مطابق کئی RTX 5090 کارڈز کی قیمت 9,300 ڈالر سے زیادہ ہے، جبکہ تجویز کردہ خوردہ قیمت 1,999 ڈالر ہے۔ RTX 5090 کو اس طرح تبدیل کرنا AI سرورز کی مضبوط طلب اور GPU کی محدود رسد کو ظاہر کرتا ہے، لیکن اس عمل کا پیمانہ اور صارفین کے لیے دستیابی پر اس کا اثر اب بھی واضح نہیں۔
چین کی تیسری سہ ماہی کی حقیقی جی ڈی پی نمو ماہرینِ معاشیات کی توقعات کی بالائی حد کے قریب رہی، لیکن دیگر اشاریے مسلسل کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مین لینڈ چین کے حصص کا معیار سمجھے جانے والے شینزن اے شیئر انڈیکس میں اس سال کے اوائل کی بلند ترین سطح سے 26 فیصد کمی آئی ہے۔ گھریلو اخراجات بھی اب تک دنیا کے کئی دیگر خطوں کے مقابلے میں جی ڈی پی کا کہیں کم حصہ ہیں۔ مضمون میں اے آئی ڈویلپر ڈیپ سیک کا مختصر ذکر ہے، لیکن فراہم کردہ متن میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔ مجموعی طور پر، چین کی معیشت میں سرخیوں میں نمایاں نمو اور حصص کی مارکیٹ کی سست کارکردگی اور ملکی کھپت کی کمزوری کے درمیان فرق نظر آتا ہے۔
Neutral
China economyChinese stocksGDP growthHousehold consumptionDeepSeek
یونیورسٹی آف مشی گن کے کنزیومر سینٹیمنٹ انڈیکس کی حتمی ریڈنگ اکتوبر میں گر کر 48.0 پر آ گئی، جو پانچ ماہ کی کم ترین سطح ہے اور ستمبر کے مقابلے میں 0.1 پوائنٹ کم ہے۔ کرنٹ اکنامک کنڈیشنز انڈیکس 8.3% گر کر 46.7 ہو گیا، جبکہ کنزیومر ایکسپیکٹیشنز انڈیکس 5.4% بڑھ کر 48.8 ہو گیا۔ ایک سالہ مہنگائی کی توقعات معمولی اضافے کے ساتھ 4.6% سے 4.7% ہو گئیں۔ یہ اعداد و شمار مجموعی طور پر صارفین کے کمزور اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ موجودہ حالات اور مستقبل کی توقعات کے بارے میں آرا ملی جلی ہیں۔
Neutral
Consumer sentimentUS economyInflation expectationsEconomic data
اکتوبر 2026 کے وسط میں Kalshi اور Polymarket نے کرپٹو پریڈکشن مارکیٹس میں مجموعی طور پر 2.7 ارب ڈالر کا ہفتہ وار حجم ریکارڈ کیا۔ یہ ایک ریکارڈ تھا، جس کی بنیادی وجہ بٹ کوائن کی قیمت پر قلیل مدتی شرطیں تھیں۔ صرف Kalshi پر بٹ کوائن کے معاہدوں کا حجم 2 ارب ڈالر سے زیادہ رہا، جس میں اس کی 15 منٹ کی قیمت اوپر یا نیچے جانے والی پروڈکٹ سرفہرست تھی۔ Polymarket کے امریکی شعبے نے اپنے پہلے مکمل ہفتے میں 15 منٹ کے بٹ کوائن کے لین دین کا حجم تقریباً 92 ملین سے 101 ملین ڈالر ریکارڈ کیا۔ دونوں پلیٹ فارمز پر کھیلوں کے بعد کرپٹو دوسری سب سے زیادہ تجارت ہونے والی کیٹیگری بن گئی۔ یہ اعداد معاہدوں کے اسمی حجم کو ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ اسپاٹ بٹ کوائن میں آنے والی رقم کو۔ اس اضافے سے بٹ کوائن کی قیمت میں تبدیلیوں پر تیز رفتار، قیاس آرائی پر مبنی سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب ظاہر ہوتی ہے، جبکہ اسپاٹ ٹریڈنگ کا حجم کم ہو رہا ہے اور پلیٹ فارمز پریڈکشن مارکیٹس میں توسیع کر رہے ہیں۔
ستمبر میں امریکا کا مارجن قرض 1.48 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا، جو اگست کے مقابلے میں 1.8% اور ایک سال پہلے کے مقابلے میں 31.4% زیادہ ہے۔ مہنگائی کے اثرات کو مدِنظر رکھنے کے بعد، مارجن قرض ماہانہ بنیاد پر 2.6% اور سالانہ بنیاد پر 26.7% بڑھا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سرمایہ کار سیکیورٹیز کی خریداری کے لیے زیادہ قرض لے رہے ہیں۔ یہ خطرہ مول لینے کی بڑھتی ہوئی آمادگی کا اشارہ ہو سکتا ہے، لیکن مارکیٹ گرنے کی صورت میں نقصانات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی سرمایہ کاروں کے کریڈٹ بیلنس بھی 1,046.1 ارب ڈالر ہیں۔
85,000 ڈالر کی جانب بٹ کوائن کی تیزی رکنے کے بعد اس کی قیمت گر کر 80,400 ڈالر پر آ گئی، جس سے سب سے بڑی کرپٹو کرنسی دن میں تقریباً 1 فیصد نیچے رہی۔ اس کمی کا تعلق ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ہو سکتا ہے، تاہم مضمون میں براہِ راست سبب و نتیجے کا تعلق ثابت نہیں کیا گیا۔ بٹ کوائن کی مارکیٹ قدر گھٹ کر 1.62 ٹریلین ڈالر رہ گئی، جبکہ مارکیٹ میں اس کا غلبہ تقریباً 60 فیصد پر برقرار رہا۔
بٹ کوائن کی گراوٹ کے ساتھ آلٹ کوائن مارکیٹ میں بھی نقصان ہوا۔ ایتھر 2,400 ڈالر سے نیچے آ گیا، XRP اپنی 1.30 ڈالر کی سپورٹ سطح سے نیچے گر گیا، اور سولانا 100 ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔ درج کردہ ٹوکنز میں WLD کی گراوٹ سب سے زیادہ رہی، جبکہ وسیع تر مارکیٹ کے رجحان کے برعکس M تقریباً 10 فیصد بڑھا۔ کرپٹو مارکیٹ کی مجموعی قدر 1 فیصد سے زیادہ گھٹ کر 2.7 ٹریلین ڈالر ہو گئی۔ ٹریڈرز دیکھیں گے کہ آیا بٹ کوائن 80,000 ڈالر سے اوپر برقرار رہتا ہے اور آیا آلٹ کوائنز کی اہم سپورٹ سطحیں ٹوٹتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نے مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال بڑھا دی، جس کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جبکہ امریکی حصص نے انتہائی اتار چڑھاؤ والے ہفتے کا اختتام ملے جلے نتائج کے ساتھ کیا۔ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کے لیے کمپنیوں کی مالی اعانت کے طریقوں سے متعلق خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔ فیڈرل ریزرو اگلے ہفتے شرحِ سود کی سمت کا فیصلہ کرنے والا ہے، اور S&P 500 کی تقریباً ایک تہائی کمپنیوں کے مالی نتائج جاری کرنے کا امکان ہے۔ تیل کی بلند قیمتیں اور شرحِ سود سے متعلق غیر یقینی صورتحال مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کی خطرہ مول لینے کی خواہش کو متاثر کر سکتی ہے۔
Lattice Semiconductor کو AI ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھانے والی ممکنہ کمپنی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سرمایہ کاری کے تجزیے میں خریدنے کی سفارش سے آغاز کیا گیا ہے، جس کی وجوہات میں FPGA کا بڑھتا ہوا استعمال اور بلند فروختی قیمتیں، نیز AMI کا منصوبہ بند حصول شامل ہیں۔ توقع ہے کہ اس حصول سے کمپنی کی قابلِ رسائی مارکیٹ دوگنی اور اس کے پلیٹ فارم کی صلاحیتیں وسیع ہوں گی۔
Lattice کے انڈسٹریل اینڈ کمیونیکیشنز شعبے کی آمدنی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 36% اضافہ ہوا، کیونکہ وہ صارفین کی جانب سے ذخیرہ کم کرنے کے بعد بحالی کی طرف گامزن تھا۔ Edge AI ایپلی کیشنز مزید ترقی کا باعث بن سکتی ہیں۔ تجزیے میں تقریباً 1 ارب ڈالر کی سالانہ آمدنی کی رفتار اور 2030 تک آمدنی کی سالانہ مرکب شرحِ نمو 40% سے زیادہ رکھنے کا ہدف بتایا گیا ہے۔ تجزیے کے مطابق یہ امکانات اسٹاک کی بلند قدر کو سہارا دے سکتے ہیں، جو مالی سال 2026 کی تخمینی آمدنی کے 46.1 گنا کے برابر ہے؛ تاہم اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متفقہ پیش گوئیاں محتاط ہو سکتی ہیں۔ یہ تجزیہ کاروں کی آرا ہیں، کمپنی کی جانب سے جاری کردہ رہنمائی نہیں۔
Neutral
Lattice SemiconductorAI data centersFPGAsSemiconductorsEdge AI
بٹ کوائن گر کر تقریباً 80,500 ڈالر کے قریب آ گیا، جبکہ ایتھریم تقریباً 2,375 ڈالر پر ٹریڈ ہوا، جو 2,400 ڈالر کی سطح سے کم ہے۔ یہ کمی محتاط رجحان کے دوران سامنے آئی، جس کی وجہ امریکی منڈیوں میں خسارے اور مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی سے منسلک تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں تھیں۔
CoinGlass کے اعداد و شمار کے مطابق، 24 گھنٹوں میں تقریباً 315 ملین ڈالر کی کرپٹو پوزیشنز لیکویڈیٹ ہوئیں، جن میں لگ بھگ 248 ملین ڈالر کی لانگ پوزیشنز شامل تھیں۔ مخصوص ٹوکنز میں ایتھریم کی سب سے زیادہ، تقریباً 61.2 ملین ڈالر کی لیکویڈیشن ہوئی، جبکہ بٹ کوائن کی 52.4 ملین ڈالر رہی۔ سولانا اور XRP بھی نیچے آئے۔
بٹ کوائن کی روزانہ کلوزنگ اس کی 20 روزہ اور 50 روزہ موونگ ایوریجز سے نیچے رہی، جبکہ MACD کی ریڈنگز مندی کے اشارے دے رہی تھیں۔ تقریباً 79,889 ڈالر پر بولنجر بینڈ کی زیریں حد ایک اہم سپورٹ ہے جس پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ ایتھریم بھی اپنی 20 روزہ اور 50 روزہ ایوریجز سے نیچے رہا، اور 38.5 کا RSI کمزور ہوتی رفتار کی نشاندہی کرتا ہے۔ ٹریڈرز بٹ کوائن کی 80,000 ڈالر کی سطح، مشرقِ وسطیٰ کی پیش رفت، فیڈرل ریزرو کی پالیسی اور آئندہ آنے والے معاشی اعداد و شمار پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ Fear and Greed Index معمولی بڑھ کر 51 ہو گیا، جو غیر جانب دار حد میں ہے۔
امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) نے مالی سال 2027 کے لیے اپنی معائنے کی ترجیحات میں پہلی بار ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز کو ایک ابھرتے ہوئے مارکیٹ خطرے کے طور پر نامزد کیا ہے۔ ادارہ کوانٹم کمپیوٹنگ، ٹریڈنگ کے توسیع شدہ اوقات اور مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے والی دیگر پیش رفتوں پر بھی توجہ دے گا۔ ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز کو کلیئرنگ ایجنسیوں کے جائزے کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ SEC عملیاتی خطرات اور ٹوکنائزڈ اثاثوں کے انتظام سمیت مختلف امور کا جائزہ لے گا۔
مسلسل دوسرے سال کرپٹو اثاثوں کو الگ زمرے کے طور پر درج نہیں کیا گیا؛ اس سے پہلے 2025 کی ترجیحات میں ان کے لیے ایک علیحدہ حصہ موجود تھا۔ یہ تبدیلی ظاہر کرتی ہے کہ SEC کرپٹو کو ایک الگ معائنے کا شعبہ سمجھنے کے بجائے نئی ٹیکنالوجیز کا جائزہ اپنی وسیع تر مارکیٹ نگرانی کے تحت لے رہا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روایتی مالیاتی ادارے ٹوکنائزڈ اسٹاک مصنوعات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ نیویارک اسٹاک ایکسچینج کی مالک کمپنی انٹرکانٹینینٹل ایکسچینج اور OKX نے 60 سے زیادہ امریکی فہرست شدہ اسٹاکس پر مشتمل پلیٹ فارم کے لیے SEC سے منظوری طلب کی ہے۔ مضمون میں حوالہ دی گئی ARK DeFi رپورٹ کے مطابق، غیر مرکزی ایکسچینجز پر ٹوکنائزڈ اسٹاکس کی تجارتی مقدار سال بہ سال تقریباً 5.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 50 ارب ڈالر ہو گئی، یعنی تقریباً نو گنا۔
ٹریڈرز کے لیے یہ ترجیحات ٹوکنائزڈ سیکیورٹیز اور ان کے مارکیٹ انفراسٹرکچر کی زیادہ کڑی جانچ کا اشارہ دیتی ہیں، لیکن ان میں کسی پابندی یا نئی تجارتی قدغن کا اعلان نہیں کیا گیا۔
23 اکتوبر 2026 کو امریکی ٹریژری بانڈز کی ییلڈ بلند رہی۔ 10 سالہ ٹریژری ییلڈ 5.00% پر بند ہوئی، جبکہ 2 سالہ ییلڈ 4.69% پر ختم ہوئی۔ فریڈی میک کے تازہ ترین سروے کے مطابق، 30 سالہ فکسڈ ریٹ رہن کی اوسط شرح 7.32% رہی، جو گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں معمولی کم ہے۔ فیڈرل ریزرو کی پالیسی ٹریژری ییلڈز اور وسیع تر مارکیٹ سرگرمیوں کو متاثر کرتی رہتی ہے۔ یہ رپورٹ بانڈز کی کارکردگی کی ایک جھلک پیش کرتی ہے، لیکن کسی مخصوص پالیسی اعلان یا مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والے واقعے کی نشاندہی نہیں کرتی۔
21 اکتوبر کو برلن میں ہونے والے GTC ایونٹ میں Nvidia کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کی جانب سے چار چھوٹے روبوٹس دکھائے جانے کے بعد Microduck کے پری آرڈرز میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ Hugging Face کے چیف ایگزیکٹو کلیم ڈیلانگ کے مطابق، اگلے 24 گھنٹوں میں 4,000 سے زیادہ آرڈرز موصول ہوئے، جس سے مجموعی پری آرڈرز کی تعداد تقریباً 20,000 تک پہنچ گئی۔
Microduck کو Pollen Robotics نے تیار کیا ہے، جو Hugging Face کی ملکیت میں فرانسیسی کمپنی ہے۔ یہ 25 سینٹی میٹر اونچا ہے اور اس میں 15 موٹرز ہیں۔ اس کی قیمت ٹیکس اور شپنگ سے پہلے 399 ڈالر ہے۔ زبردست طلب کے باعث نئے آرڈرز کی متوقع ترسیل کرسمس 2026 کے بعد تک جا پہنچی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کرسمس تک ڈیلیوری چاہنے والے خریداروں کے لیے اس کا Reachy Mini روبوٹ متبادل ہو سکتا ہے۔ جعلی ویب سائٹس کی اطلاعات کے بعد Pollen Robotics نے صارفین کو یہ تنبیہ بھی کی ہے کہ وہ صرف اس کی سرکاری ویب سائٹ سے آرڈر دیں۔
Ledger نے Ledger Atom کے سیکیورٹی آرکیٹیکچر کی تفصیل پیش کی ہے۔ یہ ایک منسلک سائنر ہے، جسے حساس کرپٹو کارروائیوں کو روزمرہ کی ایپس سے الگ رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس ڈیوائس میں دو ماحول ہیں: Standard Mode رابطے اور ایپس کے لیے ایک الگ Qualcomm چپ پر چلتا ہے، جبکہ Secure Mode، چابیاں، PIN اور ٹرانزیکشن پر دستخط محفوظ رکھنے کے لیے Common Criteria EAL6+ سے تصدیق شدہ Secure Element پر Ledger OS چلاتا ہے۔
ایک FPGA ڈسپلے اور ٹچ اِن پٹ تک رسائی کو براہِ راست کنٹرول کرتا ہے۔ Secure Mode فعال ہونے پر یہ Standard Mode کو اسکرین کنٹرول کرنے سے روکتا ہے، اور Ledger OS کے زیرِ کنٹرول Secure Bar بتاتا ہے کہ کون سا موڈ چل رہا ہے۔ Ledger کے مطابق، یہ ڈیزائن اس لیے بنایا گیا ہے کہ Standard Mode سے سمجھوتہ ہونے کی صورت میں بھی ٹرانزیکشن کی منظوری محفوظ رہے۔ ایک فزیکل سوئچ کیمرے اور مائیکروفون کی بجلی بھی منقطع کر سکتا ہے۔
Ledger کا کہنا ہے کہ AI ایجنٹس، Ledger Agent Intent کے ذریعے ٹرانزیکشن کی تجاویز دے سکتے ہیں، لیکن حساس کارروائیوں کی منظوری صارفین کو Secure Mode میں فزیکل ٹیپ کے ذریعے دینی ہوگی۔ یہ فیچر مطابقت رکھنے والے سائنرز پر بیٹا مرحلے میں ہے۔ Ledger Atom کے پورے سسٹم کی CSPN جانچ کا منصوبہ ہے۔ کمپنی نے Ledger Donjon اور بیرونی آڈیٹرز کے جائزوں کا بھی ذکر کیا ہے، اور آڈٹ کے نتائج لانچ کے بعد شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ اعلان پروڈکٹ اور سیکیورٹی کی تازہ کاری ہے، کرپٹو اثاثوں یا ٹریڈنگ کے قواعد میں تبدیلی نہیں۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران Solana، Base، BNB Chain اور Robinhood Chain پر میم کوائنز کی ٹریڈنگ سرگرم رہی، تاہم کاروباری حجم اور ٹوکنز کی کارکردگی میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔
Solana کے سرفہرست 10 میم کوائنز کا کاروباری حجم 96.484 ملین ڈالر رہا۔ 46.229 ملین ڈالر کے ساتھ ZEC سرفہرست رہا، جس کے بعد YMB اور TRUTH تھے۔ YMB میں 10,900.9% اضافہ ہوا، جبکہ Moustache نے بھی نمایاں بڑھوتری دکھائی۔ Base Chain کے سرفہرست 10 کوائنز کا کاروباری حجم 80.128 ملین ڈالر تک پہنچا، جس میں AXIS کا حصہ 79.113 ملین ڈالر تھا۔ BNB Chain پر کاروباری حجم 34.262 ملین ڈالر رہا؛ BNCB نے 20.191 ملین ڈالر کے ساتھ برتری حاصل کی، جبکہ Charity Dog میں 10,210.8% اضافہ ہوا۔ Robinhood Chain کا مجموعی کاروباری حجم 27.364 ملین ڈالر رہا، جس میں PONS 11.089 ملین ڈالر کے ساتھ سرفہرست تھا۔
یہ اعداد و شمار وسیع تر کرپٹو مارکیٹ کے لیے عمومی اشارے کے بجائے میم کوائن مارکیٹ میں سرگرمی کے ارتکاز اور انتہائی اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ٹریڈرز کو چاہیے کہ ٹوکن کی لیکویڈیٹی اور قیمتوں کے اعداد و شمار کی خود تصدیق کریں اور قیمتوں کے تیزی سے پلٹنے کے خطرے کو مدنظر رکھیں۔
ٹریڈر اور انفلوئنسر Kimchi کی Pump.fun کی جانب سے تشہیر پر اس وقت تنقید اور جانچ پڑتال شروع ہوئی جب دو متعلقہ میم کوائنز کی قیمتیں تیزی سے بڑھنے کے بعد گر گئیں۔ اس سے اندرونی رسائی اور خوردہ ٹریڈرز کو لاحق خطرات کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی۔
20 اکتوبر کو ایک والٹ نے Pump.fun پر KIMCHI ٹوکن بنایا اور اس کی مجموعی سپلائی کا 79.3% خریدنے کے لیے 87 SOL استعمال کیے۔ ایک منٹ کے اندر Pump.fun نے تشہیری تصاویر پوسٹ کیں، اور 750 ملین ٹوکنز ایک ایسے پتے پر منتقل کیے گئے جسے پلیٹ فارم کے پروفائل میں Kimchi سے منسوب کیا گیا تھا۔ پلیٹ فارم کے شریک بانی Alon نے بعد میں Kimchi کو تخلیقی شراکت دار قرار دیا۔ KIMCHI کی تخلیق کار فیس شناخت شدہ والٹ میں بھیجی گئی، جبکہ ٹوکن کی مارکیٹ ویلیو عارضی طور پر اندازاً 35 سے 40 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔
دو دن بعد Kimchi اور Alon کی جانب سے تشہیری مواد شیئر کیے جانے کے بعد دوسرا ٹوکن، project kimchi، اندازاً 10 سے 15 ملین ڈالر کی مارکیٹ ویلیو تک پہنچ گیا۔ بعد میں دونوں نے اپنی پوسٹس حذف کر دیں۔ ٹوکن کی قیمت 98% گر کر 300,000 ڈالر سے نیچے آ گئی۔ اس واقعے کے بعد اصل KIMCHI بھی 49% گر گیا اور اس کی قیمت 12.71 ملین ڈالر بتائی گئی، جو اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 70% کم تھی۔
مضمون کے مطابق تین ابتدائی خریداروں نے نو منٹ میں تقریباً 100,000 ڈالر کمائے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ Kimchi سے منسوب والٹ کے پاس KIMCHI کا 75.32% حصہ تھا، اسے تخلیق کار فیس کی مد میں 900 SOL سے زیادہ موصول ہوئے، اور Binance اور OKX کے ہاٹ والٹس سے اسے 1.35 ارب PUMP ٹوکن بھیجے گئے۔ Pump.fun نے 20 اکتوبر کو 1.61 ملین ڈالر آمدنی ریکارڈ کی۔ قیمتوں میں یہ تیز اتار چڑھاؤ تشہیری ٹوکن لانچ، ملکیت کے ارتکاز اور میم کوائن ٹریڈرز کے لیے کم لیکویڈیٹی کے خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔
ChainFeeds کے تحقیقی خلاصے میں کرپٹو ٹریڈرز سے متعلق چار پیش رفتوں کو نمایاں کیا گیا ہے: سیکیورٹی کی خامیاں، پیش گوئی کی مارکیٹس، بٹ کوائن کو لاحق ممکنہ کوانٹم خطرہ، اور سولانا پر DEX سرگرمی۔
PHP اور Node.js نے سنگین خامیوں کو دور کرنے کے لیے سیکیورٹی اپ ڈیٹس جاری کیں، جبکہ کلاؤڈ پلیٹ فارم Railway نے کہا کہ حملہ آور بعض صارفین کے انوائرنمنٹ ویری ایبلز تک رسائی حاصل کر چکے ہو سکتے ہیں۔ Railway استعمال کرنے والے کرپٹو ڈیولپرز کو مشورہ دیا گیا کہ وہ محفوظ شدہ اسناد تبدیل کریں، جن میں ایکسچینج API کیز اور والیٹ سے متعلق خفیہ معلومات شامل ہیں۔ ان انکشافات سے ٹریڈنگ بوٹس اور دوسری کرپٹو سروسز کے آپریشنل سیکیورٹی خطرات سامنے آتے ہیں، تاہم یہ بڑے پیمانے پر نقصان کی تصدیق نہیں کرتے۔
Tiger Research کی ایک رپورٹ کے مطابق پیش گوئی کی مارکیٹس شرحِ سود کے فیصلوں سے لے کر انتخابات تک کے واقعات کے امکانات کا حقیقی وقت میں اندازہ دے سکتی ہیں۔ رپورٹ میں ایسی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق Kalshi کی پیش گوئیاں بعض روایتی معاشی اشاریوں کے مقابلے میں اچھی کارکردگی دکھاتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ مارکیٹ کی لیکویڈیٹی اور پیش گوئیوں کی درستگی اہم ہیں۔
Coinbase نے بٹ کوائن میں کوانٹم مزاحم سیکیورٹی اپنانے کے لیے ممکنہ پانچ مرحلوں کا راستہ بیان کیا۔ اختیارات میں لچکدار ایڈریس ڈیزائن، پوسٹ کوانٹم دستخط، اور کمزور ایڈریسز سے بتدریج منتقلی شامل ہیں۔ ابھی کوئی حتمی طریقہ منتخب نہیں کیا گیا۔ بڑے دستخط فیس بڑھا سکتے ہیں یا ٹرانزیکشن کی گنجائش کم کر سکتے ہیں، جبکہ طویل عرصے سے غیر فعال BTC کے ساتھ سلوک اب بھی متنازع ہے۔
سولانا پر Meteora کا ہفتہ وار تجارتی حجم مبینہ طور پر بحال ہو کر تقریباً 1.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ زیادہ تر ہفتوں میں میم کوائنز کا حصہ تجارتی حجم کے نصف سے بھی کم رہا، لیکن انہوں نے Meteora کی آمدنی کا 90 فیصد سے زیادہ پیدا کیا۔ Meteora نے Fomo کے سولانا میم کوائن حجم کا تقریباً 30 فیصد بھی روٹ کیا، جو DEX مارکیٹ میں لیکویڈیٹی اور ٹرانزیکشن فیس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
SlowMist کے Cosine نے iPhone اور iPad استعمال کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے آپریٹنگ سسٹم اپ ڈیٹ کریں اور DarkSword میلویئر سے متاثرہ ایپس پر نظر رکھیں۔ اطلاعات کے مطابق، یہ میلویئر ڈیجیٹل اثاثے چرانے کی کوشش میں iPhone استعمال کرنے والے کرپٹو صارفین کے مخصوص گروہوں کو نشانہ بناتا ہے۔ iOS کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ایپ کے سینڈ باکس سے باہر نکلنے کے بعد DarkSword حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، جس میں Keychain کے پاس ورڈ، مقامی طور پر محفوظ کیے گئے والیٹ کے نجی کیز اور نوٹس شامل ہیں۔ کرپٹو صارفین کو اپنے آلات اپ ڈیٹ کرنے چاہئیں اور ممکنہ طور پر متاثرہ ایپس اور محفوظ شدہ والیٹ ڈیٹا کے معاملے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
اس ہفتے کی کرپٹو خبروں کے خلاصے میں بدلتے ہوئے ضوابط، ادارہ جاتی سرگرمیوں اور مارکیٹ کے خطرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ سونے کی قیمت 4,000 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گئی، جبکہ a16z نے اپنے کرپٹو فنڈ کو وسعت دے کر ایک وسیع تر Frontier حکمتِ عملی میں شامل کیا، جس کی توجہ AI اور کرپٹوگرافی پر ہے۔ اس خلاصے میں مجوزہ کرپٹو قواعد پر SEC کی مشاورت کے اختتام اور امریکا کے نئے اسٹیبل کوائن ضوابط کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ ضوابط جاری کنندگان کو براہِ راست سود دینے سے روکتے ہیں، تاہم تیسرے فریق کے ذریعے بعض انعامات کی گنجائش باقی رکھتے ہیں۔
آن چین اور شعبہ جاتی اعداد و شمار سے اپنانے کی ملی جلی صورتِ حال سامنے آئی۔ Circle نے سال کی پہلی ششماہی میں تقریباً 1.4 ارب ڈالر آمدنی اور USDC کے 36 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کے سیٹلمنٹ حجم کی اطلاع دی، لیکن اس کا خالص منافع کا مارجن تقریباً 7 فیصد تھا۔ ایک الگ جائزے میں چھ ملین سے زیادہ والٹس میں 2.61 ارب ڈالر پھنسے ہوئے پائے گئے، جن میں سے بڑی مقدار ممکنہ طور پر واپس حاصل کی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف، زیرِ نگرانی 588 چینز میں سے 343 کی مجموعی لاک شدہ مالیت 1 ملین ڈالر سے کم تھی، جو بلاک چینز کے درمیان شدید مسابقت کو ظاہر کرتی ہے۔
دیگر پیش رفت میں Aave کی منصوبہ بند ٹوکنومکس تبدیلیاں شامل ہیں، جن میں ٹوکن کی دوبارہ خریداری اور برن شامل ہیں؛ تیسری سہ ماہی میں ٹوکنائزڈ اسٹاکس اور ETFs کی 37 ارب ڈالر سے زیادہ آن چین ٹریڈنگ؛ اور ایسے نئے پلیٹ فارمز جو ٹوکنائزڈ پری-IPO اثاثوں کو کرپٹو ٹریڈنگ سے جوڑتے ہیں۔ اس مجموعے میں ٹوکن کی مرکوز ملکیت، کم لیکویڈیٹی، سکیورٹی واقعات اور غیر یقینی طلب کے خطرات بھی نمایاں کیے گئے ہیں۔ ٹریڈرز کے لیے، اس ہفتے کی کرپٹو سرخیاں ضوابط اور انفراسٹرکچر میں مسلسل تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہیں، لیکن قیمتوں کی سمت کے بارے میں کوئی ایک واضح اشارہ نہیں دیتیں۔
Neutral
Crypto regulationStablecoinsTokenizationBlockchain dataMarket outlook
امریکہ نے کینیڈا کی منتخب اشیا، جن میں پلائی وُڈ، کاغذ کی بعض مصنوعات اور مشینری شامل ہیں، پر محصولات ختم کر دیے ہیں، جبکہ قالینوں اور بعض اقسام کے والوز پر ڈیوٹی عائد کی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کردہ یہ تبدیلیاں 30 اکتوبر سے نافذ ہوں گی، تاہم ان سے امریکہ اور کینیڈا کے وسیع تر تجارتی تنازعے کا حل نہیں نکلتا۔
نظرثانی شدہ محصولات تجارتی اخراجات اور مہنگائی کو متاثر کر سکتے ہیں—یہ ایسے عوامل ہیں جن پر بینک آف کینیڈا 28 اکتوبر کو شرحِ سود کے فیصلے میں غور کر سکتا ہے۔ مضمون میں مارکیٹ کے اندازوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کے مطابق شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان تقریباً 79 فیصد ہے۔ محصولات میں تبدیلی اور شرحِ سود کے امکانات معاشی رجحان کو متاثر کر سکتے ہیں، لیکن مضمون میں کرپٹو کرنسی مارکیٹوں پر کسی براہِ راست اثر کی اطلاع نہیں دی گئی۔
Neutral
US-Canada tradeTariffsBank of CanadaInterest ratesInflation
Revolut نے اپنے فاؤنڈیشن ماڈل PRAGMA کو تحقیقی مرحلے سے نکال کر ریئل ٹائم بینکنگ خدمات کے پیداواری نظاموں میں شامل کر دیا ہے۔ ان خدمات میں بار بار ہونے والی ادائیگیوں کی شناخت، فوری کریڈٹ فیصلے اور ایپ کے اندر سفارشات شامل ہیں۔ یہ ماڈل NVIDIA کے اشتراک سے تیار کیا گیا اور 26 ملین گمنام صارفین کی تاریخوں پر تربیت دی گئی۔
NVIDIA GTC Berlin میں Revolut کے ایگزیکٹوز Anton Repushko اور Amey Baokar نے اس تعیناتی کے پیچھے موجود انفراسٹرکچر کی وضاحت کی۔ پلیٹ فارم صارفین کی سرگرمی کو فیصلے کی درخواست کے راستے سے باہر پہلے سے پراسیس اور ٹوکنائز کرتا ہے، اور ابتدا میں 80 ملین صارفین کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ اسے تین گنا تک بڑھانے اور فی صارف 10,000 واقعات تک معاونت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ Revolut کا ہدف یہ ہے کہ ایک سیکنڈ سے کم کے مجموعی اِنفرنس بجٹ کے اندر ڈیٹا پڑھنے کا p99 وقت دسیوں ملی سیکنڈ رہے۔
GPU کے مؤثر استعمال کے لیے Revolut ایک مشترکہ ماڈل بیک بون کو میموری میں تیار رکھتا ہے اور کام کے لحاظ سے مخصوص LoRA اڈاپٹر تبدیل کرکے استعمال کرتا ہے، جو بنیادی پیرامیٹرز کے 2–4% میں ترمیم کرتے ہیں۔ کمپنی متعدد صارفین کو بیک وقت پراسیس کرنے کے لیے ڈائنامک بیچنگ بھی استعمال کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق، ناقابلِ ترمیم ڈیٹا پائپ لائنز، ورژن شدہ ٹوکنائزرز اور آڈٹ ٹریلز ضابطہ جاتی تقاضے پورے کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
محدود لین دین کی تاریخ یا بیرونی کریڈٹ ڈیٹا رکھنے والے درخواست دہندگان جیسے معاملات کے لیے Revolut، PRAGMA کی ایونٹ سیکوئنس ماڈلنگ کو STRIDER نامی ٹیبلر فاؤنڈیشن ماڈل کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہ اعلان مالیاتی خدمات میں AI انفراسٹرکچر کے بڑھتے ہوئے استعمال کو نمایاں کرتا ہے، لیکن اس میں ایسی نئی کرپٹو کرنسی مصنوعات، تجارتی سرگرمی یا کارکردگی کے نتائج کی اطلاع نہیں دی گئی جو کرپٹو مارکیٹوں پر براہِ راست اثر ڈالیں۔
Neutral
AI in bankingFoundation modelsReal-time credit decisionsNVIDIAFinancial technology
Sui اختیاری آبجیکٹ ٹومب اسٹون پائپ لائن شامل کر رہا ہے تاکہ کی-ویلیو اسٹوریج میں حذف شدہ اور لپیٹے گئے آبجیکٹس کو بہتر طور پر سنبھالا جا سکے۔ Sui آبجیکٹ ٹومب اسٹون کسی آبجیکٹ کی حذف ہونے کی حالت اور ورژن ریکارڈ کرتے ہیں، جس سے ریڈز غلطی سے پرانا فعال ورژن واپس نہیں کرتے۔ نئے ریڈرز کسی مخصوص ورژن پر آبجیکٹ حاصل کر سکتے ہیں یا ٹومب اسٹونز کو خارج کرتے ہوئے فعال آبجیکٹ ورژنز کی فہرست بنا سکتے ہیں۔ اس تبدیلی میں آبجیکٹ بنانے، تبدیل کرنے، لپیٹنے، کھولنے اور حذف کرنے کے ٹیسٹ شامل ہیں۔ پائپ لائن فعال کرنے سے پہلے آپریٹرز کو مطابقت رکھنے والی kv-rpc بلڈ ڈیپلائے کرنا ہوگی۔ بیک فل شروع ہونے کے بعد پرانی بلڈ پر واپس جانا معاونت یافتہ نہیں ہے۔
امریکی انٹرنل ریونیو سروس (آئی آر ایس) نومبر کے اختتام تک نظرثانی شدہ رضاکارانہ انکشاف پروگرام (وی ڈی پی) شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ادارے کے جرائم کی تحقیقات کے شعبے کے سربراہ جاروڈ کوپمین کے مطابق، ان تبدیلیوں کا مقصد مکمل دستاویزات جمع کرانے کے بعد مقدمات کی کارروائی کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 120 دن تک محدود کرنا، جرمانے کم کرنا اور ممکنہ طور پر اقساط میں ادائیگی کی اجازت دینا ہے۔ نظرثانی شدہ رضاکارانہ انکشاف پروگرام میں کرپٹو اثاثوں کے لیے الگ راستہ نہیں ہوگا۔ آئی آر ایس کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو دوسری قابلِ ٹیکس آمدنی کی طرح سمجھا جائے گا اور ان سے ادارے کے عمومی وی ڈی پی طریقۂ کار کے تحت نمٹا جائے گا۔
CME Group کے چیف ایگزیکٹو ٹیری ڈفی کا کہنا ہے کہ اگر Hyperliquid نے اپنے صارف کو جاننے (KYC) کے تقاضوں کو پورا نہ کیا تو اسے امریکی مارکیٹ میں داخل ہونے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ Bloomberg کے Odd Lots پوڈکاسٹ میں انہوں نے کہا کہ ڈیریویٹوز پلیٹ فارم صرف بنیادی ڈھانچہ فراہم کرکے ضابطہ جاتی ذمہ داریوں سے بچ نہیں سکتا۔
مضمون کے مطابق، Hyperliquid لیوریج کے ساتھ ٹریڈنگ اور خودکار لیکویڈیشن کی سہولت دیتا ہے، لیکن فی الحال شناخت کی تصدیق لازمی نہیں کرتا اور امریکی ریگولیٹرز کے پاس رجسٹرڈ بھی نہیں ہے۔ یہ تبصرے امریکا میں توسیع کے لیے ضابطوں کی تعمیل سے متعلق ممکنہ رکاوٹ کو نمایاں کرتے ہیں۔ ٹریڈرز Hyperliquid کی KYC پالیسیوں، شراکت داریوں یا ضابطہ جاتی حکمتِ عملی میں تبدیلیوں پر نظر رکھیں گے۔ کسی مخصوص ضابطہ جاتی کارروائی یا ٹوکن کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی اطلاع نہیں دی گئی۔
NEAR–ICP تنازع 21–23 اکتوبر کو اس وقت بڑھ گیا جب DFINITY کے بانی ڈومینک ولیمز نے NEAR Intents کے پرائیویسی ڈیزائن پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ NEAR نے DFINITY کی تیار کردہ کرپٹوگرافک تکنیکیں اجازت کے بغیر استعمال کیں۔ انہوں نے سابق ملازمین اور NEAR کے ابتدائی ویلیڈیٹر نظام کے بارے میں بھی خدشات اٹھائے۔ یہ ولیمز کے الزامات ہیں؛ مضمون میں نہ تو کسی عدالتی فیصلے کا ذکر ہے اور نہ ہی خلاف ورزی کے ایسے شواہد کا جن کی آزادانہ تصدیق ہوئی ہو۔
مضمون کے مطابق NEAR کا جواب یہ ہے کہ Confidential Intents ایک اختیاری فیچر ہے، اور اجازت یافتہ ویلیڈیٹر شارڈ اور قابلِ اعتماد ایگزیکیوشن ماحول (TEE) کا ڈیزائن عوامی طور پر دستاویزی شکل میں موجود ہے۔ NEAR نے یہ بھی کہا کہ اس کا مین نیٹ ملٹی پارٹی کمپیوٹیشن نیٹ ورک بڑھ کر 17 آزاد آپریٹرز تک پہنچ گیا ہے، جبکہ دستخط کے لیے 17 میں سے 11 کی حد مقرر ہے۔
یہ تنازع ICP کے کرپٹوگرافی پر مرکوز Chain Fusion طریقۂ کار اور NEAR کی مصنوعات پر مبنی چین ابسٹرکشن اور انٹینٹ روٹنگ حکمتِ عملی کے درمیان مقابلے کو نمایاں کرتا ہے۔ مضمون NEAR Intents کے لین دین کا حجم 35.6 ارب ڈالر بتاتا ہے، لیکن اس اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق فراہم نہیں کرتا۔ ٹریڈرز کے لیے یہ بیاناتی تبادلہ بنیادی طور پر قلیل مدتی بیانیہ اور ساکھ کے خطرے کا سبب ہے۔ مارکیٹ پر کوئی دیرپا اثر غالباً شواہد، قانونی پیش رفت، سکیورٹی کی کارکردگی اور اپنانے کی رفتار پر منحصر ہوگا—صرف عوامی تنازع پر نہیں۔
Neutral
NEAR ProtocolInternet ComputerCross-chain technologyCryptographic IPBlockchain security
20 اکتوبر کو منعقدہ INPEX کے 2026 انویسٹر ڈے کا آغاز عالمی توانائی کی منڈی میں تبدیلیوں کے تناظر میں کمپنی کی ترقیاتی حکمتِ عملی پر گفتگو سے ہوا۔ ایجنڈے میں “آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد کی دنیا” کے عنوان سے ایک نشست، اور INPEX کی ترقی کے امکانات، سرمایہ کاری کے منصوبوں اور حصص یافتگان کو منافع کی واپسی پر گفتگو شامل تھی، جس کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا۔ کمپنی کی جانب سے صدر اور سی ای او تاکایوکی اوئیدا سمیت دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ ٹرانسکرپٹ کے اس اقتباس میں تقریب کے موضوعات بیان کیے گئے ہیں، لیکن اس میں کسی مخصوص فیصلے، مالی اعداد و شمار یا کاروباری نتائج کا ذکر نہیں ہے۔
Neutral
INPEXEnergy strategyInvestor relationsOil and gasShareholder returns
OpenAI کے محققین نے Brotli میں ایک سنگین کمزوری دریافت کی، جس کا نام CVE-2026-111497 ہے اور جسے Node2Shell بھی کہا جاتا ہے۔ یہ خامی کمپریشن لائبریری کے ڈیکوڈر میں مقررہ حدود سے باہر ڈیٹا لکھنے کا سبب بنتی ہے، جس کے ذریعے کوئی غیر مصدقہ حملہ آور بدنیتی سے تیار کردہ کمپریسڈ ڈیٹا استعمال کرکے کوڈ چلا سکتا ہے۔ اس کمزوری کا CVSS اسکور 9.2 ہے اور یہ کلائنٹ اور سرور، دونوں جانب کی ایپلی کیشنز کو متاثر کر سکتی ہے۔
Brotli کی اس کمزوری کے بعد Node.js، Bun، Envoy اور کئی Python پیکیجز کے لیے سکیورٹی اپ ڈیٹس جاری کی گئی ہیں۔ Node.js صارفین کو ورژن 22.23.4، 24.22.1 یا 26.12.1 پر اپ گریڈ کرنا چاہیے؛ Bun کے 1.4.4 سے پہلے کے ورژن متاثر ہیں۔ کمزوری کے عملی مظاہرے کا کوڈ سامنے آ چکا ہے، اور Imperva کے محققین نے متاثرہ Node.js بلڈز پر قابلِ اعتماد طریقے سے اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر دکھایا۔ تاہم، 23 اکتوبر 2026 تک بڑے پیمانے پر حملوں کا کوئی عوامی ثبوت موجود نہیں تھا۔
کرپٹو ٹریڈرز اس سافٹ ویئر کی خامی سے براہِ راست متاثر نہیں ہوتے، لیکن ایکسچینجز، والیٹ سروسز اور دیگر کرپٹو پلیٹ فارمز کو جانچنا چاہیے کہ آیا وہ Brotli کے کمزور اجزا استعمال کر رہے ہیں، خصوصاً وہاں جہاں غیر معتبر ذرائع سے آنے والا کمپریسڈ ڈیٹا پراسیس کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر انفراسٹرکچر کو درپیش سائبر سکیورٹی خطرات کو نمایاں کرتا ہے۔
Delphi Digital کے مارکیٹس سربراہ جیسن پگولٹوس نے کہا کہ Papertrade کی یہ تشویش درست تھی کہ آزادانہ طور پر منتقل کیے جا سکنے والے PAPER ٹوکن قیمت میں ہیرا پھیری کے حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ تاہم، صارفین کے تقریباً 140 ملین ڈالر جمع کرانے کے بعد ٹوکن کی منتقلی کو خارج کرنے کے فیصلے کو انہوں نے “برا تاثر” قرار دیا اور کہا کہ صارفین کی رقم لگ جانے کے بعد شرائط بدل دی گئیں۔
Hyperliquid کے HyperEVM پر قائم ہائی لیوریج ٹریڈنگ پلیٹ فارم Papertrade کا آغاز 10 اکتوبر کو ہوا۔ ابتدائی منصوبے میں ٹوکن کی منتقلی کو بعد کے مرحلے کے لیے رکھا گیا تھا، لیکن 19 اکتوبر کو ٹیم نے کہا کہ فی الحال معاہدے سے باہر منتقلی کی اجازت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ صارفین کو نقصان ہونے پر PAPER ملتے ہیں اور وہ فیس میں حصہ لینے کے لیے ان ٹوکنز کو اسٹیک کر سکتے ہیں۔
پگولٹوس نے کہا کہ قابلِ منتقلی PAPER مربوط حملوں کو منافع بخش بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیم پہلے ہی Hyperliquid کے بڑے آرڈرز سے منسلک پوزیشنز بلاک کر چکی تھی، جنہوں نے آغاز کے دن ایتھر کی قیمت میں تبدیلی کی تھی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیوریج یا پول کے حجم کو محدود کرنے سے پلیٹ فارم کی کشش کم ہو سکتی ہے۔
DefiLlama کے مطابق، 21 اکتوبر تک Papertrade نے PAPER اسٹیک کرنے والوں میں تقریباً 57 ملین ڈالر تقسیم کیے تھے۔ پگولٹوس نے کہا کہ حالیہ سرگرمی زیادہ نامیاتی دکھائی دیتی ہے، لیکن خبردار کیا کہ وہ صارفین پلیٹ فارم پر برقرار رکھنا مشکل ہوگا جو ٹوکن حاصل کرکے فروخت کرنے کی امید رکھتے تھے۔
Papertrade XYZ کا کہنا ہے کہ وہ روایتی ٹریڈنگ فیس کے بغیر 1,000 گنا تک لیوریج فراہم کرے گا۔ ٹریڈز کو کھلی مارکیٹ میں بھیجنے کے بجائے، یہ پلیٹ فارم صارفین کو ایک اندرونی لیکویڈیٹی پول کے ساتھ میچ کرتا ہے، جہاں نقصان اٹھانے والے ٹریڈرز کے فنڈز سے منافع کمانے والے ٹریڈرز کو ادائیگی کی جاتی ہے۔ یہ طریقۂ کار صارفین کو متوجہ کر سکتا ہے، لیکن اس سے پلیٹ فارم خود لین دین کا فریق بن جاتا ہے اور پول میں فنڈز کم ہونے کی صورت میں ادائیگیوں میں تاخیر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ٹریڈرز لانچ کے بعد منصوبے کی مکمل طور پر ڈائلیوٹڈ ویلیوایشن (FDV) پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ Polymarket کے odds کے مطابق، Papertrade XYZ کے 25 ملین ڈالر کی FDV حد سے تجاوز کرنے کا امکان تقریباً 52% ہے۔ لانچ، ٹریڈنگ والیوم، تکنیکی کارکردگی، ٹوکن کی منتقلی کی صلاحیت اور لیکویڈیٹی پول کی صحت اہم عوامل ہیں جن پر نظر رکھنی چاہیے۔ مضمون میں لانچ کی تاریخ یا ٹوکن ٹکر کی نشاندہی نہیں کی گئی۔
تقریباً 140 ملین ڈالر کے ڈپازٹس حاصل کرنے کے باوجود، PAPER ٹوکن پر منتقلی کی پابندیاں برقرار رکھنے پر Papertrade کو تنقید کا سامنا ہے۔ Delphi Digital کے تجزیہ کار Jason Pagoulatos نے کہا کہ ٹوکن کو آزادانہ طور پر قابلِ تجارت بنانے سے اس میں مارکیٹ ہیرا پھیری کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، کیونکہ پرپیچوئل مارکیٹس تیزی سے بنائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے پابندیوں میں تبدیلی کے فیصلے کو بھی “اچھا تاثر نہ دینے والا” قرار دیا۔
پریڈکشن مارکیٹ میں اس امکان کی شرح کہ لانچ کے ایک دن بعد Papertrade کی مکمل طور پر ڈائلیوٹڈ ویلیوایشن 25 ملین ڈالر سے تجاوز کرے گی، ایک ہفتہ پہلے کے 95% سے گر کر تقریباً 52% YES رہ گئی۔ PAPER ٹوکن کی سکیورٹی، منتقلی کی صلاحیت اور گورننس پر بحث منصوبے پر اعتماد کو متاثر کر سکتی ہے۔ ٹریڈرز پابندیوں میں تبدیلی، ایکسچینج لسٹنگز اور لیکویڈیٹی سے متعلق پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں؛ یہ شرحیں مارکیٹ کی توقعات ظاہر کرتی ہیں، تصدیق شدہ ویلیوایشن نہیں۔
Bearish
PapertradePAPER tokenToken transfer restrictionsMarket manipulationPerpetuals